سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : صل من كان أبوك يصل
باب: جس سے تمہارا باپ اچھا سلوک کرتا ہو تم بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
حدیث نمبر: 3664
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَبَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا , قَالَ:" نَعَمْ , الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا , وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا , وَإِيفَاءٌ بِعُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا , وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا , وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا".
ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اتنے میں قبیلہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی نیکیوں میں سے کوئی نیکی ایسی باقی ہے کہ ان کی وفات کے بعد میں ان کے لیے کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا، اور ان رشتوں کو جوڑنا جن کا تعلق انہیں کی وجہ سے ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3664]
حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ قبیلہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے والدین سے حسن سلوک کی کوئی صورت باقی ہے جس کے ذریعے سے ان کی وفات کے بعد میں ان سے نیکی کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے (اللہ سے) بخشش کی درخواست کرنا، ان کی وفات کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا (جو زندگی میں پورے نہ کر سکے ہوں) ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا، جن سے تعلق صرف ان کے واسطے سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 129 (5142)، (تحفة الأشراف: 11197)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/497، 498) (ضعیف)» (سند میں عبد الرحمن بن سلیمان لین (ضعیف)، اور علی بن عبید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5142
| هل بقي من بر أبوي شيء أبرهما به بعد موتهما قال نعم الصلاة عليهما الاستغفار لهما إنفاذ عهدهما من بعدهما صلة الرحم التي لا توصل إلا بهما إكرام صديقهما |
سنن ابن ماجه |
3664
| نعم الصلاة عليهما الاستغفار لهما إيفاء بعهودهما من بعد موتهما إكرام صديقهما صلة الرحم التي لا توصل إلا بهما |
Sunan Ibn Majah Hadith 3664 in Urdu
علي بن عبيد الله الأنصاري ← مالك بن ربيعة الساعدي