سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : بر الوالد والإحسان إلى البنات
باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 3665
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ , فَقَالُوا: لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَمْلِكُ أَنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان اعرابیوں (خانہ بدوشوں) نے کہا: لیکن ہم تو اللہ کی قسم! (اپنے بچوں کا) بوسہ نہیں لیتے، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا اختیار ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحمت اور شفقت نکال دی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3665]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”کچھ اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: ”کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”لیکن قسم ہے اللہ کی! ہم تو (اپنے بچوں کو) نہیں چومتے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے اختیار کی بات تو نہیں جب اللہ نے تمہارے اندر سے رحم کا جذبہ سلب کر لیا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 15 (2317)، (تحفة الأشراف: 16822)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 17 (5993)، مسند احمد (6/70) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5998
| أوأملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة |
صحيح مسلم |
6027
| أملك إن كان الله نزع منكم الرحمة |
سنن ابن ماجه |
3665
| أملك أن كان الله قد نزع منكم الرحمة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3665 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3665
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اپنے بچوں سے پیار کرنا شفقت و محبت کی علامت ہے۔
(2)
دل اللہ کے قبضے میں ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و نصیحت کرتے تھے اور حق کو واضح کر کے بیان فرماتے تھے۔
ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اپنے بچوں سے پیار کرنا شفقت و محبت کی علامت ہے۔
(2)
دل اللہ کے قبضے میں ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و نصیحت کرتے تھے اور حق کو واضح کر کے بیان فرماتے تھے۔
ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3665]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6027
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھنے لگے، کیا تم بچوں کو بوسہ دیتے ہو؟ صحابہ کرام نے کہا، ہاں۔ تو وہ کہنے لگے، لیکن ہم اللہ کی قسم! بوسہ نہیں دیتے تو رسول اللہ نے فرمایا: ”اور میں کیا کروں، اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے رحمت نکال لی ہے۔“ ابن خمیر کہتے ہیں، ”تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6027]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اپنی چھوٹی اولاد سے بوس و کنار،
ایک طبعی اور فطرتی شفقت و پیار کا نتیجہ ہے اور ان سے پیار و محبت نہ کرنا،
دل کی سختی اور شقاوت کی دلیل ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اپنی چھوٹی اولاد سے بوس و کنار،
ایک طبعی اور فطرتی شفقت و پیار کا نتیجہ ہے اور ان سے پیار و محبت نہ کرنا،
دل کی سختی اور شقاوت کی دلیل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6027]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5998
5998. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: تم لوگ بچوں کا بوسہ لیتے ہو؟ ہم تو ان کا بوسہ نہیں لیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرے دل سے اللہ تعالٰی نے جذبہ رحمت نکال دیا ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5998]
حدیث حاشیہ:
(1)
ممکن ہے کہ دیہاتی سے مراد حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ ہوں کیونکہ وہ بھی ذرا سخت طبیعت کے تھے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں سے محبت وپیار کرنے کو رحمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ آپ نے دیہاتی سے فرمایا:
”اگر اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت کھینچ لی ہے تو میں تیرے دل میں جذبۂ رحمت پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوں۔
“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس قسم کا واقعہ حضرت قیس بن عاصم تمیمی رضی اللہ عنہ اور حضرت حصن بن حذیفہ فزاری رضی اللہ عنہ سے بھی پیش آیا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی محرم یا اجنبی بچے کا بوسہ لینا یہ شفقت اور پیار کی وجہ سے ہوتا ہے، اس میں لذت یا شہوت کا شائبہ نہیں ہوتا لہٰذا اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں، اسی طرح بچوں کو گلے لگانا، انھیں سونگھنا بھی جائز ہے۔
(فتح الباري: 528/10)
واللہ أعلم
(1)
ممکن ہے کہ دیہاتی سے مراد حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ ہوں کیونکہ وہ بھی ذرا سخت طبیعت کے تھے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں سے محبت وپیار کرنے کو رحمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ آپ نے دیہاتی سے فرمایا:
”اگر اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت کھینچ لی ہے تو میں تیرے دل میں جذبۂ رحمت پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوں۔
“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس قسم کا واقعہ حضرت قیس بن عاصم تمیمی رضی اللہ عنہ اور حضرت حصن بن حذیفہ فزاری رضی اللہ عنہ سے بھی پیش آیا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی محرم یا اجنبی بچے کا بوسہ لینا یہ شفقت اور پیار کی وجہ سے ہوتا ہے، اس میں لذت یا شہوت کا شائبہ نہیں ہوتا لہٰذا اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں، اسی طرح بچوں کو گلے لگانا، انھیں سونگھنا بھی جائز ہے۔
(فتح الباري: 528/10)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5998]
Sunan Ibn Majah Hadith 3665 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق