پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : بر الوالد والإحسان إلى البنات
باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 3670
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ فِطْرٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ , فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا , إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک (اچھا برتاؤ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3670]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی دو بیٹیاں جوان ہو جائیں اور وہ ان سے اس وقت تک اچھا سلوک کرتا رہے جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں، یا جب تک وہ ان کے ساتھ رہے، وہ اسے جنت میں ضرور داخل کر دیں گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5681، ومصباح الزجاجة: 1278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 363) (حسن)» (سند میں ابو سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 382)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥شرحبيل بن سعد الخطمي، أبو سعد شرحبيل بن سعد الخطمي ← عبد الله بن العباس القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥فطر بن خليفة المخزومي، أبو بكر فطر بن خليفة المخزومي ← شرحبيل بن سعد الخطمي | صدوق رمي بالتشيع | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← فطر بن خليفة المخزومي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥الحسين بن الحسن السلمي، أبو عبد الله الحسين بن الحسن السلمي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3670
| ما من رجل تدرك له ابنتان فيحسن إليهما ما صحبتاه أو صحبهما إلا أدخلتاه الجنة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3670 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3670
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
”جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں۔“
کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نکاح ہو جانے تک، یا نکاح سے پہلے فوت ہو جانے تک ان سے اچھا سلوک کرے، ان کی اچھی تربیت کرے، ان کی جائز ضروریات پوری کرے۔
”جب تک وہ ان کے ساتھ رہے۔“
کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا نکاح کرنے سے پہلے فوت ہو جائے اور اپنی وفات تک ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔
فوائد و مسائل:
”جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں۔“
کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نکاح ہو جانے تک، یا نکاح سے پہلے فوت ہو جانے تک ان سے اچھا سلوک کرے، ان کی اچھی تربیت کرے، ان کی جائز ضروریات پوری کرے۔
”جب تک وہ ان کے ساتھ رہے۔“
کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا نکاح کرنے سے پہلے فوت ہو جائے اور اپنی وفات تک ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3670]
Sunan Ibn Majah Hadith 3670 in Urdu
شرحبيل بن سعد الخطمي ← عبد الله بن العباس القرشي