یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : الإحسان إلى المماليك
باب: غلاموں کے ساتھ احسان (اچھے برتاؤ) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3691
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ , عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى , قَالَ:" نَعَمْ , فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ , وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ" , قَالُوا: فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ:" فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ , فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو“، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو (اس کی جگہ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3691]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری مالکانہ صفات کا حامل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ (مالک ہونے کے پہلو سے بھی اچھی صفات سے متصف ہونا چاہیے۔) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس امت میں غلام اور یتیم سب قوموں سے زیادہ ہوں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (ہوں گے)، لہٰذا ان سے اسی طرح عزت کا رویہ رکھو جس طرح اپنی اولاد سے عزت کا رویہ رکھتے ہو (انہیں خواہ مخواہ ذلیل نہ کرو۔) اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”دنیا میں کیا چیز ہمیں فائدہ دے سکتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گھوڑا جسے تو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لیے باندھ رکھے، تیرا غلام جو تیرے کام آئے۔ اگر وہ نمازی ہو تو وہ تیرا (مسلمان) بھائی ہے (لہٰذا اس کا خیال رکھنا زیادہ ضروری ہے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6618)، ومصباح الزجاجة: 1289)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 29 (1946 مختصراً)، مسند احمد (1/12) (ضعیف)» (سند میں فرقد السبخي ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1946)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
ترمذي (1946)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1946
| لا يدخل الجنة سيئ الملكة |
جامع الترمذي |
1963
| لا يدخل الجنة خب لا منان لا بخيل |
سنن ابن ماجه |
3691
| لا يدخل الجنة سيئ الملكة أكرموهم ككرامة أولادكم وأطعموهم مما تأكلون ما ينفعنا في الدنيا قال فرس ترتبطه تقاتل عليه في سبيل الله مملوكك يكفيك فإذا صلى فهو أخوك |
بلوغ المرام |
1303
| لا يدخل الجنة خب ولا بخيل ولا سيء الملكة |
Sunan Ibn Majah Hadith 3691 in Urdu
مرة الطيب ← أبو بكر الصديق