🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما جاء في الإحسان إلى الخدم
باب: خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1946
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
ابوبکر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جو خادموں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ایوب سختیانی اور کئی لوگوں نے راوی فرقد سبخی کے بارے میں ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 10 (3691) (تحفة الأشراف: 6618) (ضعیف) (سند میں فرقد سبخی ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3691) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (806) بزيادات كثيرة، ضعيف الجامع (6340) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1946) إسناده ضعيف / جه 3691
فرقد ضعيف (تقدم: 962)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥مرة الطيب، أبو إسماعيل
Newمرة الطيب ← أبو بكر الصديق
ثقة
👤←👥فرقد بن يعقوب السبخي، أبو يعقوب
Newفرقد بن يعقوب السبخي ← مرة الطيب
ضعيف الحديث
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← فرقد بن يعقوب السبخي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1946
لا يدخل الجنة سيئ الملكة
جامع الترمذي
1963
لا يدخل الجنة خب لا منان لا بخيل
سنن ابن ماجه
3691
لا يدخل الجنة سيئ الملكة أكرموهم ككرامة أولادكم وأطعموهم مما تأكلون ما ينفعنا في الدنيا قال فرس ترتبطه تقاتل عليه في سبيل الله مملوكك يكفيك فإذا صلى فهو أخوك
بلوغ المرام
1303
‏‏‏‏لا يدخل الجنة خب ولا بخيل ولا سيء الملكة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1946 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1946
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں فرقد سبخی ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1946]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
 الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1303
دھوکے باز، بخیل اور مالک ہونے کے لحاظ سے برا شخص جنت میں نہیں جائے گا
«وعن ابي بكر الصديق رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لا يدخل الجنة خب ولا بخيل ولا سيء الملكة ‏‏‏‏ اخرجه الترمذي وفرقه حديثين وفي إسناده ضعف»
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں دھوکے باز داخل نہیں ہو گا نہ بخیل اور نہ ہی وہ جو مالک ہونے میں برا ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے دو علیحدہ علیحدہ حدیثوں میں بیان کیا ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1303]
تخریج:
«ضعيف»
[ترمذي 1963] میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏ «لا يدخل الجنة خب ولا منان ولا بخيل» جنت میں دھوکے باز داخل نہیں ہو گا نہ احسان جتلانے والا اور نہ ہی بخیل۔ دیکھئے: ضعیف ترمذی للالبانی [330]

اور ترمذی [1946] میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏ «لا يدخل الجنة سيء الملكة» مالک ہونے میں برا شخص جنت میں نہیں جائے گا۔ دیکھئے: ضعیف ترمذی [336] اور دیکھئے تحفتہ الاشراف [5/305'304]
یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی دونوں روایتوں میں ایک راوی فرقد السبخی ہے جس کے متعلق حافظ نے فرمایا: «صدوق عابد لكنه لين الحديث كثير الخطا» [تقريب]
البتہ ان اعمال کی برائی میں دوسری کئی احادیث موجود ہیں۔

مفردات:
«خَبٌّ» خاء کے فتحہ کے ساتھ دھوکے باز «سَيِّيُ الْمَلَكَةِ اَلْمَلَكَةُ مَلَكَ يَمْلَكُ» کا مصدر ہے۔ وہ شخص جو مالک ہونے میں برا ہے یعنی جو غلام یا جانور اس کی ملکیت میں ہیں ان سے برا سلوک کرتا ہے ان کی استطاعت سے زیادہ کام لیتا ہے انہیں بے جا مارتا پیٹتا ہے اور ان کے آرام خوراک اور علاج کا خیال نہیں کرتا۔
[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 216]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1303
برے اخلاق و عادات سے ڈرانے اور خوف دلانے کا بیان
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوکہ باز، بخیل اور بدخلق آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے اور اس نے اسے دو احادیث کی صورت میں الگ الگ بیان کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1303»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، البر والصلة، باب ما جاء في البخل، حديث:1963 وقال: حسن غريب.* صدقة وفرقد ضعيفان.»
تشریح:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دھوکا دینے‘ بخل کرنے اور برے اخلاق کی مذمت اور قباحت کتاب و سنت کے دیگر دلائل سے واضح ہے۔
بنابریں ان اعمال قبیحہ سے اجتناب ضروری ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1303]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1963
بخیل کی مذمت کا بیان۔
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھوکہ باز، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں نہیں داخل ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1963]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں صدقہ بن موسیٰ،
اور فرقد سبخی دونوں ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1963]