🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : إكرام الرجل جليسه
باب: ہم نشیں اور ساتھی کی عزت و تکریم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي يَحْيَى الطَّوِيلِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلُ الْكُوفَةِ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ فَكَلَّمَهُ , لَمْ يَصْرِفْ وَجْهَهُ عَنْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْصَرِفُ , وَإِذَا صَافَحَهُ لَمْ يَنْزِعْ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُهَا , وَلَمْ يُرَ مُتَقَدِّمًا بِرُكْبَتَيْهِ جَلِيسًا لَهُ قَطُّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کسی شخص سے ملاقات ہوتی اور آپ اس سے بات کرتے تو اس وقت تک منہ نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھیر لیتا، اور جب آپ کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دیتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3716]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی سے ملتے اور وہ آپ سے بات چیت کرتا تو آپ اپنا چہرہ اس سے نہیں پھیرتے تھے حتی کہ وہی (بات چیت سے فارغ ہو کر) دوسری طرف متوجہ ہو جاتا۔ اور جب کوئی آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ نہ کرتے حتی کہ وہی اپنا ہاتھ الگ کرتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے سے گھٹنے آگے بڑھا کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 841، ومصباح الزجاجة: 1297)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة 46 (2490)، بعضہ وقال: غریب) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (زید العمی ضعیف راوی ہے، لیکن مصافحہ کا جملہ صحیح اور ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 4285)
قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا جملة المصافحة فهي ثابتة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2490)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥زيد بن الحواري العمي، أبو الحواري
Newزيد بن الحواري العمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥عمران بن زيد الثعلبي، أبو محمد، أبو يحيى
Newعمران بن زيد الثعلبي ← زيد بن الحواري العمي
مقبول
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عمران بن زيد الثعلبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2490
إذا استقبله الرجل فصافحه لا ينزع يده من يده حتى يكون الرجل ينزع ولا يصرف وجهه عن وجهه حتى يكون الرجل هو الذي يصرفه ولم ير مقدما ركبتيه بين يدي جليس له
سنن ابن ماجه
3716
إذا لقي الرجل فكلمه لم يصرف وجهه عنه حتى يكون هو الذي ينصرف وإذا صافحه لم ينزع يده من يده حتى يكون هو الذي ينزعها ولم ير متقدما بركبتيه جليسا له قط
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3716 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3716
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ  اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت اس جملے:
جب کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ نہ کرتے حتی کہ وہی اپنا ہاتھ الگ کرتا۔
کے سوا ضعیف ہے، نیز اس جملے کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ جملہ ثابت ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني: 5/ 635، 637 رقم: 2485)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3716]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2490
باب:۔۔۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2490]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں،
مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2490]

Sunan Ibn Majah Hadith 3716 in Urdu