سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : النهي عن الاضطجاع على الوجه
باب: اوندھے منہ لیٹنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ , وَقَالَ:" يَا جُنَيْدِبُ , إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا: ” «جنيدب» ! (یہ ابوذر کا نام ہے) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11926، ومصباح الزجاجة: 1303) (صحیح)» (سند میں محمد بن نعیم میں کلام ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر» (سورة القمر: 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3724
| هذه ضجعة أهل النار |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3724 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3724
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
(2)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عظمت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تنبیہ کا یہ انداز مناسب تھا لیکن عام آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے ساتھی کو ٹھوکر مار کر مسئلہ بتائے۔
(3)
مناسب موقع پر مناسب انداز سے سختی کرنا جائز ہے۔
(4)
سختی کا انداز ایسا ہونا چاہیے جس سے مخاطب کو یہ احساس ہو کہ اس تنبیہ میں محبت اور رہنمائی کا پہلو بھی شامل ہے، محض غصہ نکالنا مقصود نہیں۔
فوائد ومسائل:
(1)
پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
(2)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عظمت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تنبیہ کا یہ انداز مناسب تھا لیکن عام آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے ساتھی کو ٹھوکر مار کر مسئلہ بتائے۔
(3)
مناسب موقع پر مناسب انداز سے سختی کرنا جائز ہے۔
(4)
سختی کا انداز ایسا ہونا چاہیے جس سے مخاطب کو یہ احساس ہو کہ اس تنبیہ میں محبت اور رہنمائی کا پہلو بھی شامل ہے، محض غصہ نکالنا مقصود نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3724]
طهفة بن قيس الغفاري ← أبو ذر الغفاري