🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : النهي عن ذلك
باب: عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلَكِنْ يَشْرَعَانِ جَمِيعًا".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ہے، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی وہم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5325، ومصباح الزجاجة: 155) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اوپر کی حدیث (۳۷۳) صحیح ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے فرمایا: عبداللہ سرجس کی اس باب میں حدیث موقوف صحیح ہے، جس نے اسے مرفوع بیان کیا غلطی کی (سنن ترمذی: ۱/ ۱۹۳)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن سرجس المزنيصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← عبد الله بن سرجس المزني
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن المختار الأنصاري، أبو إسحاق، أبو إسماعيل
Newعبد العزيز بن المختار الأنصاري ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥المعلى بن أسد العمي، أبو الهيثم
Newالمعلى بن أسد العمي ← عبد العزيز بن المختار الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← المعلى بن أسد العمي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
374
نهى رسول الله أن يغتسل الرجل بفضل وضوء المرأة والمرأة بفضل الرجل ولكن يشرعان جميعا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 374 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث374
اردو حاشہ:
(1)
امام ابن ماجہ ؒ نے فرمایا:
صحیح اول ہے اور ثانی وہم ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی روایت صحیح ہے اور دوسری میں راوی سے غلطی ہوئی ہے۔
اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہےجو مسئلہ پہلے باب میں ذکر ہوا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرتے ہیں، وہ صحیح ہے۔
اور دوسرے باب والا مسئلہ یعنی اس کا منع ہونا راجح نہیں۔

(2)
بعض علماء نے اس نہی کی بابت لکھا ہے کہ یہ نہی یا تو رخصت سے پہلے کی ہے یا احتیاط پر محمول ہے۔
اور صحیح تر وہی ہے جو پچھلے باب میں مذکور ہوا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے استعمال شدہ اور بچے ہوئے پانی سے وضو کرسکتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 374]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374M
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةْ: الصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ، وَالثَّانِي، وَهْمٌ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث آئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 374M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

Sunan Ibn Majah Hadith 374 in Urdu