سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : النهي عن ذلك
باب: عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10051، ومصباح الزجاجة: 156)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77) (ضعیف)» (اس سند میں ”الحارث الاعور“ ضعیف راوی ہے)
وضاحت: ۱؎: ظاہر یہ ہے کہ غسل ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے جائز ہے، مگر نہی جو وارد ہوئی ہے تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحارث الأعور: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
إسناده ضعيف
الحارث الأعور: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
375
| يغتسلون من إناء واحد لا يغتسل أحدهما بفضل صاحبه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 375 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث375
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ میاں بیوی اکھٹے بھی غسل کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے بھی غسل کرسکتے ہیں۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ میاں بیوی اکھٹے بھی غسل کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے بھی غسل کرسکتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 375]
الحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي