علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : المدح
باب: مدح کا بیان۔
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ , عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ".
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزہد 14 (3002)، سنن ابی داود/الأدب 10 (4804)، سنن الترمذی/الزہد 54 (2392)، (تحفة الأشراف: 11545) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المقداد بن الأسود الكندي، أبو الأسود، أبو معبد، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن سخبرة الأزدي، أبو معمر عبد الله بن سخبرة الأزدي ← المقداد بن الأسود الكندي | ثقة | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن سخبرة الأزدي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى حبيب بن أبي ثابت الأسدي ← مجاهد بن جبر القرشي | ثقة فقيه جليل | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7505
| أن نحثي في وجوه المداحين التراب |
صحيح مسلم |
7506
| إذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب |
سنن أبي داود |
4804
| إذا لقيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب |
سنن ابن ماجه |
3742
| أن نحثو في وجوه المداحين التراب |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3742 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3742
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
منہ پر تعریف کرنے والوں کا مقصد عام طور پر اپنے ممدوح حضرات کی مبالغہ آمیز نا جائز تعریف اور خوشامد وغیرہ کر کے ان سے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنا یا ان کی نظر میں بلند مقام حاصل کرنا ہوتا ہے۔
یہ عمل اخلاقی طور پر غلط ہے۔
(2)
چہروں پر خاک ڈالنے کا مطلب بالکل واضح ہے کہ تعریف کرنے والے شخص کے منہ پر مٹی ڈال دی جائے جس طرح کہ راوی حدیث صحابیٔ رسول مقداد بن عمرو ؓنے حاکم وقت کی ان کے منہ پر تعریف کرنے والے شخص کے چہرے پر مٹی پھینکی تھی، پھر ان کے پوچھنے پر فرمایا تھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشامد کرنے والوں کے منہ پر اسی طرح مٹی پھینکنے کا حکم دیا ہے۔ (صحیح مسلم، الزھد، باب النهي عن المدح إذا كان فيه إفراط ......، حديث: 3002)
یہ بات یاد رہے کہ اس ممنوع تعریف سے مراد وہ تعریف ہے جو ناجائز، مبنی بر خوشامد اور مبالغہ آمیز ہو، نیز ایسی تعریف جس سے ممدوح شخص کے عجب، خود پسندی اور ریا کاری وغیرہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو۔
ہاں، اگر کوئی شخص واقعی قابل تعریف ہو اور اپنی تعریف سن کر اس شخص کے کسی قسم کے فتنے وغیرہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور نہ ہی تعریف کرنے والے کا مقصد ہی ناجائز فوائد کا حصول ہو تو ایسی تعریف کرنا جائز ہے جس طرح کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ ؓکی تعریف ان کی موجودگی میں فرمائی ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
مبالغہ آمیز تعریف کی وجہ سے ممدوح کے دل میں فخر و غرور پیدا ہونے کا خطرہ ہے، اور عین ممکن ہے کہ اس تعریف و شہرت کی وجہ سے وہ عمل میں سستی کا شکار ہو جائے یا تعریف کی لذت محسوس کر کے ریا کاری میں مبتلا ہو جائے، اور یہ ہلاکت کا باعث ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
منہ پر تعریف کرنے والوں کا مقصد عام طور پر اپنے ممدوح حضرات کی مبالغہ آمیز نا جائز تعریف اور خوشامد وغیرہ کر کے ان سے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنا یا ان کی نظر میں بلند مقام حاصل کرنا ہوتا ہے۔
یہ عمل اخلاقی طور پر غلط ہے۔
(2)
چہروں پر خاک ڈالنے کا مطلب بالکل واضح ہے کہ تعریف کرنے والے شخص کے منہ پر مٹی ڈال دی جائے جس طرح کہ راوی حدیث صحابیٔ رسول مقداد بن عمرو ؓنے حاکم وقت کی ان کے منہ پر تعریف کرنے والے شخص کے چہرے پر مٹی پھینکی تھی، پھر ان کے پوچھنے پر فرمایا تھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشامد کرنے والوں کے منہ پر اسی طرح مٹی پھینکنے کا حکم دیا ہے۔ (صحیح مسلم، الزھد، باب النهي عن المدح إذا كان فيه إفراط ......، حديث: 3002)
یہ بات یاد رہے کہ اس ممنوع تعریف سے مراد وہ تعریف ہے جو ناجائز، مبنی بر خوشامد اور مبالغہ آمیز ہو، نیز ایسی تعریف جس سے ممدوح شخص کے عجب، خود پسندی اور ریا کاری وغیرہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو۔
ہاں، اگر کوئی شخص واقعی قابل تعریف ہو اور اپنی تعریف سن کر اس شخص کے کسی قسم کے فتنے وغیرہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور نہ ہی تعریف کرنے والے کا مقصد ہی ناجائز فوائد کا حصول ہو تو ایسی تعریف کرنا جائز ہے جس طرح کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ ؓکی تعریف ان کی موجودگی میں فرمائی ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
مبالغہ آمیز تعریف کی وجہ سے ممدوح کے دل میں فخر و غرور پیدا ہونے کا خطرہ ہے، اور عین ممکن ہے کہ اس تعریف و شہرت کی وجہ سے وہ عمل میں سستی کا شکار ہو جائے یا تعریف کی لذت محسوس کر کے ریا کاری میں مبتلا ہو جائے، اور یہ ہلاکت کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3742]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4804
بے جا تعریف اور مدح سرائی کی برائی کا بیان۔
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4804]
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4804]
فوائد ومسائل:
یہ مذمت اور یہ معاملہ ایسے لوگوں کے لیئے معلوم ہو تا ہے جن کا وتیرہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے لوگوں کی خوش آمد اور مدح سرائی کر کے مال کھاتے اور اپنے کام نکالتے ہیں، لیکن اگر کسی کی حوصلہ افزائی اور ترغیب و تشویق کے لیے اس کے اعمال خیر کی مناسب حد تک مدح کردی جائےتو ان شاء اللہ مباح ہے، بہر حال حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری معنی ہی لیتے تھے۔
جو بلاشبہ حق اور سچ ہے۔
یہ مذمت اور یہ معاملہ ایسے لوگوں کے لیئے معلوم ہو تا ہے جن کا وتیرہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے لوگوں کی خوش آمد اور مدح سرائی کر کے مال کھاتے اور اپنے کام نکالتے ہیں، لیکن اگر کسی کی حوصلہ افزائی اور ترغیب و تشویق کے لیے اس کے اعمال خیر کی مناسب حد تک مدح کردی جائےتو ان شاء اللہ مباح ہے، بہر حال حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری معنی ہی لیتے تھے۔
جو بلاشبہ حق اور سچ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4804]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7505
حضرت ابو معمر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، کہ ایک شخص کھڑاہوا امراء میں سے کسی امیر کی تعریف کرنے لگا توحضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص پر مٹی ڈالنے لگے،اور کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیاتھا کہ ہم مدح سراؤں کے منہ میں مٹی ڈالیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7505]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے صحابی رسول کی طرح،
اس حدیث کو ظاہری لغوی معنی پر محمول کیا ہے کہ تملق و چاپلوسی کرنے والے پیشہ ور قصیدہ خانوں کے چہروں پر حقیقتا مٹی ڈالنی چاہیے،
لیکن اکثر سلف کے نزدیک یہ اس کو ناکام و نامراد کرنے سے کنایہ ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے اور اس مقصد اور غرض کو پورا نہیں کرنا چاہیے،
ممدوح کو کسی فخر و گھمنڈ اور خود پسندی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور نہ اس کی بات کو اہمیت ووزن دینا چاہیے،
اگر وہ کچھ لینے کے لیے ایسے کررہا ہے،
تو اسے محروم کرنا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے صحابی رسول کی طرح،
اس حدیث کو ظاہری لغوی معنی پر محمول کیا ہے کہ تملق و چاپلوسی کرنے والے پیشہ ور قصیدہ خانوں کے چہروں پر حقیقتا مٹی ڈالنی چاہیے،
لیکن اکثر سلف کے نزدیک یہ اس کو ناکام و نامراد کرنے سے کنایہ ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے اور اس مقصد اور غرض کو پورا نہیں کرنا چاہیے،
ممدوح کو کسی فخر و گھمنڈ اور خود پسندی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور نہ اس کی بات کو اہمیت ووزن دینا چاہیے،
اگر وہ کچھ لینے کے لیے ایسے کررہا ہے،
تو اسے محروم کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7505]
Sunan Ibn Majah Hadith 3742 in Urdu
عبد الله بن سخبرة الأزدي ← المقداد بن الأسود الكندي