Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : ما كره من الشعر
باب: برے اور نا پسندیدہ اشعار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ شَيْبَانَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِرْيَةً لَرَجُلٌ هَاجَى رَجُلًا , فَهَجَا الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا , وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ , وَزَنَّى أُمَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان لگانے والا وہ شخص ہے جو کسی ایک شخص کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ اس کی ساری قوم کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کو باپ بنائے، اور اپنی ماں کو زنا کا مرتکب قرار دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16329، ومصباح الزجاجة: 1315) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جب باپ کو چھوڑ کر اپنے کو دوسرے کا بیٹا قرار دیا تو گویا اس نے اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
وحديث البخاري (3509) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم
Newعبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يوسف بن ماهك الفارسي
Newيوسف بن ماهك الفارسي ← عبيد بن عمير الجندعي
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← يوسف بن ماهك الفارسي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة يتشيع
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3761
أعظم الناس فرية لرجل هاجى رجلا فهجا القبيلة بأسرها رجل انتفى من أبيه وزنى أمه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3761 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3761
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس آدمی سے تکلیف پہنچے، اسے تو برا بھلا کہا جا سکتا ہے لیکن اس سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کو بھی برا قرار دینا جھوٹ ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)
ہمارے معاشرے میں یہ چیز پائی جاتی ہے کہ بعض قبائل یا پیشوں کے بارے میں ایک رائے مشہو ر ہو جاتی ہے۔
جس شخص میں وہ خرابی نہ ہو اس قبیلے یا پیشے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس سے بھی بد گمانی کی جاتی ہے یا اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
یہ بری عادت ہے۔

(3)
ہجو، یعنی شعروں میں کسی کی مذمت برا کام ہے، البتہ مسلمانوں سے بر سر پیکار کافروں کی ہجو کرنا جائز ہے بشر طیکہ اس کی زد میں مسلمان نہ آئیں۔

(4)
قبیلہ یا خاندان باہمی تعارف کا ایک ذریعہ ہے۔
عزت و ذلت کا تعلق عمل سے ہے خاندان سے نہیں۔

(5)
اپنے قبیلے کو ادنیٰ سمجھ کر خود کو کسی دوسرے معروف قبیلے کا فرد مشہور کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

(6)
جب ایک شخص دوسرے قبیلے سے نسبت قائم کرتا ہے تو گویا وہ اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ اس کی پیدائش اس شخص سے نہیں ہوئی جو اس کا حقیقی باپ سمجھا جاتا ہے بلکہ دوسرے قبیلے کے کسی فرد سےہوئی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی ماں بدکار ثابت ہوتی ہے۔
اس سے اس حرکت کی برائی واضح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3761]