سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : اللعب بالنرد
باب: نرد (چوسر) کھیلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3762
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ , فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے «نرد» (چوسر) کھیلا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 64 (4938)، (تحفة الأشراف: 8997)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرؤیا 2 (6)، مسند احمد (4/394، 397، 400) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4938)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4938)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4938
| من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله |
سنن ابن ماجه |
3762
| من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3762 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3762
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت اس سے کفالت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں آئندہ آنے والی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت اس سے کفالت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں آئندہ آنے والی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3762]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4938
چوسر کھیلنے کی ممانعت کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4938]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4938]
فوائد ومسائل:
1) (نرد) کا ترجمہ (لُعُبة الطاو لة) کیا گیا ہے، یعنی لکڑی کے تختے پر کھیل جس سے چوسر، کیرم بورڈ، اور لڈو وغیرہ کی قسم کے کھیل مراد ہو سکتے ہیں۔
2) ہمارے فاضل محقق مذکورہ روایت کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ روایت سندََا ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم کی حدیث نمبر 12260 اس روایت سے کفایت کرتی ہے، لہذا معلوم ہوا کہ یہ روایت معناََ قابلِ حجت ہے، نیز شیخ البانی ؒ نے بھی مذکورہ بالا روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
1) (نرد) کا ترجمہ (لُعُبة الطاو لة) کیا گیا ہے، یعنی لکڑی کے تختے پر کھیل جس سے چوسر، کیرم بورڈ، اور لڈو وغیرہ کی قسم کے کھیل مراد ہو سکتے ہیں۔
2) ہمارے فاضل محقق مذکورہ روایت کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ روایت سندََا ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم کی حدیث نمبر 12260 اس روایت سے کفایت کرتی ہے، لہذا معلوم ہوا کہ یہ روایت معناََ قابلِ حجت ہے، نیز شیخ البانی ؒ نے بھی مذکورہ بالا روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4938]
سعيد بن أبي هند الفزاري ← عبد الله بن قيس الأشعري