🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب : فضل التسبيح
باب: تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3808
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي رِشْدِينَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , قَالَتْ: مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْغَدَاةَ , أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ وَهِيَ تَذْكُرُ اللَّهَ , فَرَجَعَ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ , أَوْ قَالَ: انْتَصَفَ وَهِيَ كَذَلِكَ , فَقَالَ:" لَقَدْ قُلْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَنْكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَهِيَ أَكْثَرُ وَأَرْجَحُ , أَوْ أَوْزَنُ مِمَّا قُلْتِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
جویریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح (فجر) کے وقت یا صبح کے بعد ان کے پاس سے گزرے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوٹے جب دن چڑھ آیا، یا انہوں نے کہا: دوپہر ہو گئی اور وہ اسی حال میں تھیں (یعنی ذکر میں مشغول تھیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جب سے تمہارے پاس سے اٹھا ہوں یہ چار کلمے تین مرتبہ پڑھے ہیں، یہ چاروں کلمے (ثواب میں) زیادہ اور وزن میں بھاری ہیں، اس ذکر سے جو تم نے کئے ہیں، (وہ چار کلمے یہ ہیں) «سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن، اور لامحدود کلمے کے برابر اس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3808]
ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر ان کے پاس سے گزرے تو وہ اللہ کا ذکر کر رہی تھیں، جب دن چڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے تو وہ اسی طرح (ذکر الٰہی میں) مصروف تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس سے جانے کے بعد میں نے چار کلمات تین تین بار کہے ہیں جو تمہارے کیے ہوئے ذکر سے (ثواب میں) زیادہ (یا فرمایا) وزن میں زیادہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں اس کی ذات کی خوشنودی کے مطابق، میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کے عرش کے وزن کے برابر، میں اللہ کی تقدیس کرتا ہوں اس (کی تعریف) کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکروالدعاء 19 (2726)، (تحفة الأشراف: 15788)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 359 (1503)، سنن الترمذی/الدعوات 104 (3555)، سنن النسائی/االسہو 94 (1353)، مسند احمد (6/325، 429) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جويرية بنت الحارث الخزاعيةصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← جويرية بنت الحارث الخزاعية
صحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القرشي
Newمحمد بن عبد الرحمن القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← محمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن بشر العبدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1353
سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته
صحيح مسلم
6913
سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته
جامع الترمذي
3555
سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته
سنن ابن ماجه
3808
سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته
بلوغ المرام
1338
لقد قلت بعدك اربع كلمات لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3808 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3808
اردو حاشہ:
ایک روایت میں (سبحان الله)
کے بعد (وبحمده)
کا لفظ بھی ہے۔ (صحيح مسلم، الذكر والدعاء، باب التسبيح اول النهار وعند اليوم حديث: 2726)
اس لیے اسے پڑھنا چاہیے:
(سبحان الله وبحمده .....)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3808]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1353
تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے (تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں) تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اب تک اسی حال میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1353]
1353۔ اردو حاشیہ:
➊ صحیح مسلم کی حدیث میں یہ بھی صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج جو کچھ تم نے کہا ہے، یہ کلمات ان سے وزن کیے جائیں تو وزن میں ان (تمہارے کہے ہوئے) کلمات سے بڑھ جائیں گے۔ اور وہ کلمات اس طرح مذکور ہیں «سبحان اللهِ و بحمده عددَ خلْقِه، و رضا نفسِه، وزنةَ عرشِه، و مدادَ كلماتِه» [صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2726] ان کلمات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بے انتہا تسبیحات کا مستحق ہے اور ان مذکورہ چیزوں کی تعداد اور مقدار و وزن کو کوئی نہیں جانتا۔ وہ انتہائی وزنی اور بے انتہا ہیں۔
➋ یہ بھی ثابت ہوا کہ بعض ذکر، بعض سے افضل ہوتے ہیں اور ان کا ثواب زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سب کلام برابر نہیں ہوتے۔
➌ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عورتیں بہت زیادہ ذکر اذکار اور عبادت کرتی تھیں۔
➍ نماز فجر سے لے کر دن چھڑنے تک ذکر اذکار کرنا مستحسن امر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1353]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1338
ذکر اور دعا کا بیان
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میں نے تیرے بعد چار کلمے ایسے ادا کئے ہیں کہ اگر ان کلمات کا تیرے کلمات سے موازنہ کیا جائے، جو تو نے شروع دن سے لے کر اب تک پڑھے ہیں، تو یہ کلمات وزن میں بڑھ جائیں گے۔ وہ کلمات یہ ہیں «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضاء نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» ‏‏‏‏ اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کے نفس کی رضا اور اپنے عرش کے وزن، اور اپنے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1338»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الذكر والدعاء، باب التسبيح أول النهاروعندالنوم، حديث:2726.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا» ‏‏‏‏ امہات المومنین میں سے ایک تھیں۔
غزوۂ مریسیع میں قید ہوئیں اور ثابت بن قیس بن شماس کے حصے میں آئیں۔
انھوں نے ان سے مکاتبت کر لی۔
مکاتبت کی رقم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرما کر انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا۔
اس پر لوگوں نے ان کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا کہ یہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار بن گئے ہیں۔
یہ خاتون اپنے قبیلے اور قوم کے لیے سب سے زیادہ باعث برکت ثابت ہوئیں۔
۵۶ ہجری میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1338]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3555
باب:۔۔۔
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ (اس وقت) اپنی مسجد میں تھیں (جہاں وہ باقاعدہ گھر میں نماز پڑھتی تھیں)، دوپہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے پھر گزر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تب سے تم اسی حال میں ہو؟ (یعنی اسی وقت سے اس وقت تک تم ذکرو تسبیح ہی میں بیٹھی ہو) انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند کلمے ایسے نہ سکھا دوں جنہیں تم کہہ لیا کرو۔ (اور پھر پورا ثواب پاؤ) وہ کلمے یہ ہیں: «سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله عدد خلقه ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3555]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہو اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر (تین بار) میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی رضا و خوشنودی کے برابر (تین بار)،
میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کے عرش کے وزن کے برابر (تین بار)،
میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کے کلموں کی سیاہی کے برابر (تین بار)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3555]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6913
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد جلد ہی ان کے پاس چلے گئے اور وہ ابھی اپنی نماز گاہ میں تھیں، پھر دن چڑھنے کے بعد واپس لوٹے اور وہ ابھی وہیں بیٹھی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں تمھیں جس حالت پر چھوڑ کر گیا تھا ابھی تک اس پر ہو؟"حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میں نے تمھارے پاس جانے کے بعد چار کلمات تین دفعہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6913]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ کلمات انتہائی جامع ہیں،
جو حصر و شمار سے باہر ہیں اور ان کا وزن ممکن نہیں ہے تو معنی ہوا،
اس کی بے انتہاء اور لاتعداد مرتبہ تسبیح وتحمید بیان کرتا ہوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6913]

تحریر: حافظ ندیم ظہیر حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح مسلم 6913
نماز کے بعد ایک ذکر
۔۔۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میں نے تمھارے پاس جانے کے بعد چار کلمات تین دفعہ کہے ہیں اگر ان کا وزن ان کلمات کے ساتھ کریں جواب تک تونے کہے ہیں تو ان کا وزن زیادہ ہوگا۔ اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح ہے۔اس کی مخلوق کی تعداد اس کی رضا خوشنودی اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔" [صحیح مسلم: 6913]
فوائد:
بہت سے ایسے اعمال ہیں کہ جن میں محنت و مشقت کم ہوتی ہے لیکن ان کا اجر و ثواب زیادہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ اپنے بندوں پر خصوصی انعام ہے۔
مذکورہ کلمات انہی اعمال میں سے ہیں۔
دوسرے یہ بھی معلوم ہوا کہ ذکرِ الہٰی کے لئے جگہ مخصوص کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ چل پھر کر بھی یہ عمل سر انجام دیا جا سکتا ہے۔
سیدنا ابوامامہ الباہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے دونوں ہونٹوں کو حرکت دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو امامہ! کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں (ابوامامہ) نے کہا: میں اپنے رب کا ذکر کر رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں (ایسے ذکر کے بارے میں) نہ بتاؤں جو دن رات کے ذکر سے افضل ہے۔ یہ کہ تم کہو:
«سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَ سُبْحَانَ اللهِ مِلْ ءَ مَا خَلَقَ، وَ سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللهِ مِلْ ءَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا اَحْصٰي كِتَابَهٗ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَسُبْحَانَ اللهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ» اور اسی طرح تم کہو «اَلْحَمْدُ للهِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ» اور «اَللهُ اَكْبَرُ» [النسائي فى عمل اليوم والليله: ۱۶۶]
فوائد:
یہ روایت محمد بن عجلان کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے
کیونکہ یہ روایت «عن» سے ہے
اور مدلس کی روایت صراحتِ سماع کے بغیر ضعیف ہوتی ہے۔
[۔۔۔، حدیث/صفحہ نمبر: 22]

Sunan Ibn Majah Hadith 3808 in Urdu