سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ: فَضْلِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3806
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ , ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ , حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ , سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں (وہ دو کلمے یہ ہیں) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ”اللہ (ہر عیب و نقص سے) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم (عظمت والا) اللہ (ہر عیب و نقص) سے پاک ہے)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3806]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمات ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، (اعمال کے) میزان میں بھاری ہیں، رحمان کو پیارے ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ» ”میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اور اس کی تعریف کرتا ہوں، پاک ہے اللہ عظمتوں والا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 65 (6406)، التوحید 57 (7563)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2694)، سنن الترمذی/الدعوات 60 (3467)، (تحفة الأشراف: 14899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بہت مختصر کلمے ہیں اور ان کا پڑھنا بھی سہل ہے، آدمی کو چاہیے کہ ہر وقت ان کلموں کو پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3807
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي سِنَانٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا , فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا الَّذِي تَغْرِسُ" , قُلْتُ: غِرَاسًا لِي , قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى غِرَاسٍ خَيْرٍ لَكَ مِنْ هَذَا؟" , قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , يُغْرَسْ لَكَ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن درخت لگا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”ابوہریرہ! تم کیا لگا رہے ہو“؟ میں نے عرض کیا کہ میں درخت لگا رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر درخت نہ بتاؤں“؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ضرور بتلائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہا کرو، تو ہر ایک کلمہ کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3807]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ پودا لگا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا لگا رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”پودا لگا رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر پودا نہ بتاؤں؟“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“، ان میں سے ہر ہر کلمے کے عوض جنت میں تمہارے لیے ایک ایک درخت لگا دیا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14134، ومصباح الزجاجة: 1332) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں چار کلمے ہیں تو ایک بار کہنے سے جنت میں چار درخت لگائے جائیں گے، اسی طرح دو بار کہنے سے آٹھ درخت، امید ہے کہ ہر ایک مومن ان کلموں کو لاکھوں بار پڑھا ہو، اور جنت کے اندر اس کی زمین میں لاکھوں درخت لگائے گئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عيسي بن سنان أبو سنان: ضعيف ضعفه الجمهور وأصل الحديث صحيح بغير السياق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
إسناده ضعيف
عيسي بن سنان أبو سنان: ضعيف ضعفه الجمهور وأصل الحديث صحيح بغير السياق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
حدیث نمبر: 3808
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي رِشْدِينَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , قَالَتْ: مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْغَدَاةَ , أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ وَهِيَ تَذْكُرُ اللَّهَ , فَرَجَعَ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ , أَوْ قَالَ: انْتَصَفَ وَهِيَ كَذَلِكَ , فَقَالَ:" لَقَدْ قُلْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَنْكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَهِيَ أَكْثَرُ وَأَرْجَحُ , أَوْ أَوْزَنُ مِمَّا قُلْتِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
جویریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح (فجر) کے وقت یا صبح کے بعد ان کے پاس سے گزرے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوٹے جب دن چڑھ آیا، یا انہوں نے کہا: دوپہر ہو گئی اور وہ اسی حال میں تھیں (یعنی ذکر میں مشغول تھیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جب سے تمہارے پاس سے اٹھا ہوں یہ چار کلمے تین مرتبہ پڑھے ہیں، یہ چاروں کلمے (ثواب میں) زیادہ اور وزن میں بھاری ہیں، اس ذکر سے جو تم نے کئے ہیں، (وہ چار کلمے یہ ہیں) «سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته» ”میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن، اور لامحدود کلمے کے برابر اس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3808]
ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر ان کے پاس سے گزرے تو وہ اللہ کا ذکر کر رہی تھیں، جب دن چڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے تو وہ اسی طرح (ذکر الٰہی میں) مصروف تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس سے جانے کے بعد میں نے چار کلمات تین تین بار کہے ہیں جو تمہارے کیے ہوئے ذکر سے (ثواب میں) زیادہ (یا فرمایا) وزن میں زیادہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں اس کی ذات کی خوشنودی کے مطابق، میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کے عرش کے وزن کے برابر، میں اللہ کی تقدیس کرتا ہوں اس (کی تعریف) کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکروالدعاء 19 (2726)، (تحفة الأشراف: 15788)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 359 (1503)، سنن الترمذی/الدعوات 104 (3555)، سنن النسائی/االسہو 94 (1353)، مسند احمد (6/325، 429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3809
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ , عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , أَوْ عَنْ أَخِيهِ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ: التَّسْبِيحَ , وَالتَّهْلِيلَ , وَالتَّحْمِيدَ , يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ , لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ , تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا , أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ , أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح ( «سبحان الله»)، تہلیل، «لا إله إلا الله»، اور تحمید، «الحمد لله» ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں (اللہ کے سامنے) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3809]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اللہ کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو، یعنی تسبیح «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، تہلیل «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اور تحمید «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کے الفاظ کہتے ہو، وہ عرش کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں۔ ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔ وہ اپنے کہنے والے کا (اللہ کے دربار میں) ذکر کرتے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ (اللہ کے دربار میں) تمہارا ذکر ہوتا رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11632، ومصباح الزجاجة: 1333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/268، 271) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ،ان کلمات کی کیا فضیلت ہے، گویا یہ اپنے کہنے والے کے لئے شاہد اور مذکر ہیں، اس حدیث سے بھی اللہ تعالی کا استواء عرش کے اوپر ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3810
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , قَالَتْ: أَتَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ , فَإِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ وَبَدُنْتُ , فَقَالَ:" كَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , وَسَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ فَرَسٍ مُلْجَمٍ مُسْرَجٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ , وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ رَقَبَةٍ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتلائیے، میں بوڑھی اور ضعیف ہو گئی ہوں، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو بار «اللہ اکبر»، سو بار «الحمدللہ»، سو بار «سبحان اللہ» کہو، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں، اور سو جانور قربان کرنے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3810]
حضرت ام ہانئ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی (آسان سا) عمل بتائیے کیونکہ میں بوڑھی اور کمزور ہوگئی ہوں اور میرا بدن بھاری ہوگیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو بار «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہہ، سو بار «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہہ، سو بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہہ۔ یہ لگام اور کاٹھی سمیت سو گھوڑے اللہ کی راہ میں دینے سے بہتر ہے، سو اونٹ (اللہ کی راہ میں قربان کرنے) سے بہتر ہے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18013، 18014، ومصباح الزجاجة: 1334)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344) (حسن)» (سند میں زکریا بن منظور ضعیف اور محمد بن عقبہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی اب محنت والی عبادت مجھ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زكريا بن منظور: ضعيف ومحمد بن عقبة: مستور
وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (344/6)وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
إسناده ضعيف
زكريا بن منظور: ضعيف ومحمد بن عقبة: مستور
وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (344/6)وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
حدیث نمبر: 3811
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَرْبَعٌ أَفْضَلُ الْكَلَامِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار کلمے تمام کلمات سے بہتر ہیں اور جس سے بھی تم شروع کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں، وہ یہ ہیں «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» اللہ کی ذات پاک ہے، ہر قسم کی حمد و ثناء اللہ ہی کو سزاوار ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ بہت بڑا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3811]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار کلمات سب سے افضل ہیں۔ جس کلمہ سے بھی شروع کرو کوئی حرج نہیں: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» “ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الآداب 2 (2137)، (تحفة الأشراف: 4636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/11، 20) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چاہے پہلے «سبحان اللہ» کہے، چاہے «الحمد للہ» چاہے «اللہ اکبر» چاہے: «لا إله إلا الله» اگر اس کے بعد یہ بھی ملائے «ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» تو اور زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3812
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ سُمَيٍّ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ , غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3812]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہے، اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح (بے شمار) ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 60 (3466، 3468)، (تحفة الأشراف: 12578)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 65 (6405)، مسند احمد (2/302، 375، 515) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3813
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِسُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , فَإِنَّهَا يَعْنِي: يَحْطُطْنَ الْخَطَايَا كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ یہ کلمے گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے (پرانے) پتے جھاڑ دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3813]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے رہا کرو، ان کلمات کی وجہ سے گناہ اس طرح ختم ہوجاتے ہیں جس طرح درخت سے پتے جھڑ جاتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10972، ومصباح الزجاجة: 1335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/440) (ضعیف)» (سند میں عمر بن راشد کی ابن أبی کثیر سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن راشد:ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
إسناده ضعيف
عمر بن راشد:ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513