یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : ما يدعو به الرجل إذا خرج من بيته
باب: گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهِ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهِ كَانَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ , فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , قَالَا: هُدِيتَ , وَإِذَا قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَا: وُقِيتَ , وَإِذَا قَالَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ , قَالَا: كُفِيتَ , قَالَ: فَيَلْقَاهُ قَرِينَاهُ , فَيَقُولَانِ: مَاذَا تُرِيدَانِ مِنْ رَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3886]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے گھر کے دروازے سے باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ مقرر ہیں۔ جب وہ کہتا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ» تو وہ کہتے ہیں: ”تجھے ہدایت مل گئی۔“ جب وہ کہتا ہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» تو وہ کہتے ہیں: ”تیری حفاظت ہو گئی۔“ جب وہ کہتا ہے: «تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ» تو وہ کہتے ہیں: ”تو (اللہ کے سوا) دوسروں سے بے نیاز ہو گیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے اس کے (ساتھ رہنے والے) دو شیطان ملتے ہیں تو وہ دونوں (آپس میں) کہتے ہیں: ”اس شخص سے تم کیا چاہتے ہو جس کی رہنمائی کی گئی، جسے بے نیازی حاصل ہو گئی اور جس کو (ہم سے) محفوظ کر دیا گیا؟““ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13972، ومصباح الزجاجة: 1360) (ضعیف)» (ہارون بن ہارون ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
هارون بن هارون: ضعيف
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (5095) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
إسناده ضعيف
هارون بن هارون: ضعيف
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (5095) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥هارون بن هارون القرشي، أبو عبد الله، أبو محرر هارون بن هارون القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل محمد بن أبي فديك الديلي ← هارون بن هارون القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد دحيم القرشي ← محمد بن أبي فديك الديلي | ثقة حافظ متقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3885
| إذا خرج من بيته قال بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التكلان على الله |
سنن ابن ماجه |
3886
| إذا خرج الرجل من باب بيته أو من باب داره كان معه ملكان موكلان به فإذا قال بسم الله قالا هديت وإذا قال لا حول ولا قوة إلا بالله قالا وقيت وإذا قال توكلت على الله قالا كفيت قال فيلقاه قريناه فيقولان ماذا تريدان من رجل قد هدي وكفي ووقي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3886 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3886
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت بھی سنداً ضعیف ہے۔
شیخ البانی اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ مذکورہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم یہی دعا فرشتوں اور شیطانوں کے ذکر کے بغیر حضرت انس ٭ سے صحیح سند سے مروی ہے لیکن حق اور راحج بات یہی ہے کہ یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
شیخ ؒ کو اس کی تصحیح میں وہم ہوا ہے- تفصیل کےلئے دیکھئے: (نتائج الأفکار 1/ 161)
بنا بریں گھر سے نکلنے کی کوئی بھی مسنون دعا ہمارے علم میں نہیں ہے جیسا کہ تفصیل گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت بھی سنداً ضعیف ہے۔
شیخ البانی اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ مذکورہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم یہی دعا فرشتوں اور شیطانوں کے ذکر کے بغیر حضرت انس ٭ سے صحیح سند سے مروی ہے لیکن حق اور راحج بات یہی ہے کہ یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
شیخ ؒ کو اس کی تصحیح میں وہم ہوا ہے- تفصیل کےلئے دیکھئے: (نتائج الأفکار 1/ 161)
بنا بریں گھر سے نکلنے کی کوئی بھی مسنون دعا ہمارے علم میں نہیں ہے جیسا کہ تفصیل گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3886]
Sunan Ibn Majah Hadith 3886 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي