🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له
باب: مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3895
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَأَبُو كُرَيْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ فِرَاسٍ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک مسلمان کا خواب نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4225، ومصباح الزجاجة: 1361) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥فراس بن يحيى الهمداني، أبو يحيى
Newفراس بن يحيى الهمداني ← عطية بن سعد العوفي
ثقة
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← فراس بن يحيى الهمداني
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة يتشيع
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6989
الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
سنن ابن ماجه
3895
رؤيا الرجل المسلم الصالح جزء من سبعين جزءا من النبوة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3895 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3895
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 ممکن ہے اس حدیث سے ادنیٰ درجے کا مومن کا خواب مراد ہو اور پہلی حدیث میں اعلیٰ درجے کے مومن کا خواب۔
ادنیٰ درجے کے خواب میں اس کے اپنے خیالات کا دخل زیادہ ہوتا ہے۔
اس لئے اس کے بعینہ پورا ہونے کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3895]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6989
6989. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6989]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی حدیث اس لیے بیان کی ہے کہ جس خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے اس سے اچھا خواب مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ جو خواب شیطان کی دراندازی کانتیجہ ہوتا ہے وہ قطعاً اس فضیلت کا حقدارنہیں ہے، پھر نبوت کا حصہ قرار دینے کے متعلق مختلف روایات ہیں۔
کم از کم اچھے خواب کو نبوت کا چھبیسواں اور زیادہ سے زیادہ چھہترواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس کے درمیان چالیسواں، چوالیسواں، پنتالیسواں، چھیالسواں، سنتالیسواں، پچاسواں اورستر حصہ قرار دینے کے متعلق بھی روایات ملتی ہیں۔
زیادہ روایات چھیالیسواں حصے کے متعلق ہیں۔
(فتح الباری: 455/12)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد یہ دعویٰ کرنا کہ نبوت کے کچھ اجزا ابھی باقی ہیں بہت مشکل امر ہے، اس لیے مذکورہ حدیث کی تشریح میں مندرجہ ذیل توجیہات بیان کی گئی ہیں:
۔
اگر نبی خواب دیکھتا ہے تو حقیقی طور پر نبوت کا جز ہے اوراگر کوئی امتی اچھا خواب دیکھتا ہے تو اس کے مجازی معنی مراد ہوں گے۔
۔
اس سے مراد حضرات انبیاء علیہم السلام کے خوابوں کے موافق خواب دیکھنا ہے، یہ مراد نہیں کہ نبوت کا کوئی حصہ باقی ہے۔
۔
اچھا خواب علم نبوت کا حصہ ہے، نبوت کا جز نہیں کیونکہ علم نبوت تو قیامت تک باقی رہے گا۔
۔
پسندیدہ اور سچا خواب صداقت کے اعتبار سے نبوت سے مشابہت رکھتا ہے۔
(فتح الباری: 455/12)

بعض حضرات نے اس کی توجیہ اس طرح بیان کی ہے کہ وحی کی ابتدا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک تئیس سال کی مدت ہے، ان میں تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں وحی نازل ہوتی رہی اور ابتدائی زمانہ نبوت میں چھ ماہ تک خواب میں وحی نازل ہوتی رہی۔
یہ نصف سال ہے، اس طرح تئیس سال کو نصف سال کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو چھیالیس بنتے ہیں۔
اس اعتبار سے اچھے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6989]