🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له
باب: مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرؤیا (2264)، (تحفة الأشراف: 13284)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر 2 (6987)، سنن ابی داود/الأدب 96 (5018)، سنن الترمذی/الرؤیا 1 (2271)، موطا امام مالک/الرؤیا 1 (3)، سنن الدارمی/الرؤیا 2 (2183) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6990
لم يبق من النبوة إلا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة
صحيح مسلم
5911
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحيح مسلم
5912
رؤيا المسلم يراها أو ترى له
صحيح مسلم
5913
رؤيا الرجل الصالح جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
جامع الترمذي
2291
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
سنن أبي داود
5017
ليس يبقى بعدي من النبوة إلا الرؤيا الصالحة
سنن ابن ماجه
3894
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحيفة همام بن منبه
49
رؤيا الرجل الصالح جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3894 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3894
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
''مومن''کےلفظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
کہ کافر کا خواب سچا بھی ہو تو وہ اللہ کی طرف سے عزت افزائی کا باعث نہیں بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے کافر کو دنیا میں دوسری نعمتیں اورحکومت وغیرہ دے کر آزمایا جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3894]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5017
خواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے (سلام پھیر کر) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5017]
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ خواب ایک حقیقت واقعہ ہے۔
یہ سچے اور جھوٹے دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔
سچے خواب اللہ عزوجل کی جانب سے اور جھوٹے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔
بلکہ انبیاء رسل صلی اللہ علیہ وسلم کا تو خاصہ ہے۔
کہ ان کے خواب بالکل سچے اور وحی کی ایک قسم کے ہوتے ہیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائے نبوت خواب ہی سے حاصل ہوئی تھی۔
اور عام مسلمانوں کے خواب جو وہ صحت واعتدال کی کیفیت میں دیکھے وہ بھی بالعموم سچے ہوتے ہیں۔
اور انہی کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔
البتہ ان کی تعبیر کا معاملہ خفا میں ہوتا ہے۔
کبھی تو کوئی صاحب علم اس کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے۔
اور کبھی اس کی تہ تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5017]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6990
6990. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: (مبشرات) اچھے خواب ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6990]
حدیث حاشیہ:
جن کے ذریعہ بشارتیں ملتی ہیں۔
اولیاء اللہ کے بارے میں آیت ﴿لَھُمُ البُشریٰ في الحیوةِ الدُّنیا﴾ میں ان ہی مبشرات کا ذکر ہے۔
جس دن سے خدمت قرآن مجید وبخاری شریف کا کام شروع کیا ہے بہت سے مبشرات اللہ نے خواب میں دکھلائے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6990]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6990
6990. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: (مبشرات) اچھے خواب ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6990]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث مرض وفات میں بیان فرمائی، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں پردہ اٹھایا جبکہ آپ نے بیماری کی وجہ سے اپنا سر باندھ رکھا تھا اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، آپ نےفرمایا:
لوگو! مبشرات نبوت سے اب صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں جنھیں ایک مسلمان دیکھتا ہے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1074(479)
اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ جسے اچھا خواب آئے اسے نبوت کا کچھ حصہ مل جاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں خواب کے معاملے کو نبوت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
اگر کوئی شخص أشھد ان لا إلٰه إلا اللہ بآواز بلند کہتا ہے تو اسے مؤذن نہیں کہا جاتا، حالانکہ یہ کلمہ اذان کا جز ہے۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اچھے خواب کو مبشرات سے تعبیر کرنا اغلبیت کی وجہ سے ہے کیونکہ کچھ خواب سچے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ مومن کو اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ مستقبل میں پیش آنے والے حادثے کے لیے خود کو تیار کر کے، یعنی مبشرات کے بجائے منذرات سے ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 470/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6990]