علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : من رأى رؤيا يكرهها
باب: ناپسندیدہ اور برا خواب دیکھنے پر کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3910
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْعُمَرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا , فَلْيَتَحَوَّلْ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا , وَلْيَسْأَلِ اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا , وَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کروٹ بدل لے، اور اپنے بائیں طرف تین بار تھوکے، اور اللہ تعالیٰ سے اس خواب کی بھلائی کا سوال کرے، اور اس کی برائی سے پناہ مانگے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12971، ومصباح الزجاجة: 1368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/364) (صحیح)» (سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3910
| إذا رأى أحدكم رؤيا يكرهها فليتحول وليتفل عن يساره ثلاثا وليسأل الله من خيرها وليتعوذ من شرها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3910 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3910
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
برا خواب شیطان کی شر سے ہوتا ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی پریشانی کا علاج (أعوذ بالله)
پڑھنا ہے۔
(2)
بائیں طرف تھتکارنے میں یہی حکمت ہے کہ بائیں طرف شیطان سے مناسبت رکھتی ہے وہ اس طرف سے آکر دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔
(3)
کروٹ بدلنا جسمانی حالت میں ظاہری تبدیلی ہے۔
جس میں اللہ سے اس کی رحمت کی امید اور درخواست کا اظہار ہے کہ اللہ پریشانى کی حالت تبدیل فرماکر اطمینان قلب عطا فرما دے۔
فوائد و مسائل:
(1)
برا خواب شیطان کی شر سے ہوتا ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی پریشانی کا علاج (أعوذ بالله)
پڑھنا ہے۔
(2)
بائیں طرف تھتکارنے میں یہی حکمت ہے کہ بائیں طرف شیطان سے مناسبت رکھتی ہے وہ اس طرف سے آکر دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔
(3)
کروٹ بدلنا جسمانی حالت میں ظاہری تبدیلی ہے۔
جس میں اللہ سے اس کی رحمت کی امید اور درخواست کا اظہار ہے کہ اللہ پریشانى کی حالت تبدیل فرماکر اطمینان قلب عطا فرما دے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3910]
Sunan Ibn Majah Hadith 3910 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي