🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : تعبير الرؤيا
باب: خواب کی تعبیر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ سَمْنًا وَعَسَلًا , وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا , فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ , وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا إِلَى السَّمَاءِ , رَأَيْتُكَ أَخَذْتَ بِهِ , فَعَلَوْتَ بِهِ , ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَكَ , فَعَلَا بِهِ , ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَهُ , فَعَلَا بِهِ , ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَهُ , فَانْقَطَعَ بِهِ , ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا بِهِ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَعْنِي أَعْبُرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" اعْبُرْهَا" , قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ , وَأَمَّا مَا يَنْطُفُ مِنْهَا مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ , فَهُوَ الْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ , وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ مِنْهُ النَّاسُ , فَالْآخِذُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرًا وَقَلِيلًا , وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ إِلَى السَّمَاءِ , فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ , أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَا بِكَ , ثُمَّ يَأْخُذُهُ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ , ثُمَّ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ , ثُمَّ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ , ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ , قَالَ:" أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَصَبْتُ مِنَ الَّذِي أَخْطَأْتُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْسِمْ يَا أَبَا بَكْرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا، اس وقت آپ جنگ احد سے واپس تشریف لائے تھے، اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں بادل کا ایک سایہ (ٹکڑا) دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس میں سے ہتھیلی بھربھر کر لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا، کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان تک تنی ہوئی ہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے وہ رسی پکڑی اور اوپر چڑھ گئے، آپ کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی تو وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی تو رسی ٹوٹ گئی، لیکن وہ پھر جوڑ دی گئی، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس خواب کی تعبیر مجھے بتانے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تعبیر بیان کرو، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ بادل کا ٹکڑا دین اسلام ہے، شہد اور گھی جو اس سے ٹپک رہا ہے اس سے مراد قرآن، اور اس کی حلاوت (شیرینی) اور لطافت ہے، اور لوگ جو اس سے ہتھیلی بھربھر کر لے رہے ہیں اس سے مراد قرآن حاصل کرنے والے ہیں، کوئی زیادہ حاصل کر رہا ہے کوئی کم، اور وہ رسی جو آسمان تک گئی ہے اس سے وہ حق (نبوت یا خلافت) کی رسی مراد ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور جو آپ نے پکڑی اور اوپر چلے گئے (یعنی اس حالت میں آپ نے وفات پائی)، پھر اس کے بعد دوسرے نے پکڑی اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر تیسرے نے پکڑی وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر چوتھے نے پکڑی تو حق کی رسی کمزور ہو کر ٹوٹ گئی، لیکن اس کے بعد اس کے لیے وہ جوڑی جاتی ہے تو وہ اس کے ذریعے اوپر چڑھ جاتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر صحیح بتائی اور کچھ غلط، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں، آپ ضرور بتائیے کہ میں نے کیا صحیح کہا، اور کیا غلط؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! قسم نہ دلاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3918]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد سے واپس تشریف لائے تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں ایک سائبان (یا بادل) دیکھا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا۔ اور میں نے دیکھا کہ لوگ اس (گھی اور شہد) سے لے رہے ہیں۔ کوئی زیادہ لے رہا ہے کوئی کم اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی۔ اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعے سے اوپر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور آدمی نے وہ رسی پکڑی اور وہ اس کے ذریعے سے اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی اس کے ذریعے سے اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک آدمی نے اسے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر وہ رسی جوڑ دی گئی تو وہ اس کے ذریعے سے اوپر چلا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس کی تعبیر کرنے کی اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اس کی تعبیر کریں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سائبان (یا بادل) تو اسلام ہے۔ اس سے ٹپکنے والا شہد اور گھی قرآن، یعنی اس کی شیرینی اور نرمی ہے، اور اس سے لینے والے لوگ کم یا زیادہ قرآن (کا علم و فہم) حاصل کرنے والے ہیں۔ آسمان تک پہنچنے والی رسی سے مراد وہ حق (سچا دین) ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعے سے بلند ہو گئے (یعنی بلند درجات پر فائز ہو گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک آدمی پکڑے گا اور اس کے ذریعے سے بلند ہو جائے گا۔ پھر دوسرا آدمی بھی اس (کو پکڑ کر اس) کے ذریعے سے بلند ہو جائے گا۔ پھر ایک اور آدمی پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی لیکن پھر جڑ جائے گی اور وہ اس کے ذریعے سے بلند ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے کچھ صحیح کہا اور کچھ غلطی کی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ مجھے بتا دیجیے کہ میں نے کون سی بات صحیح کہی اور کون سی غلط کہی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! قسم نہ کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التعبیر 47 (7046)، صحیح مسلم/الرؤیا 3 (2269)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور 13 (3267، 3269)، السنة 9 (4632، 4633)، سنن الترمذی/الرؤیا10 (2287)، (تحفة الأشراف: 5838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/219)، سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2202) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف
Newيعقوب بن كاسب المدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق يهم
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5928
أرى الليلة في المنام ظلة تنطف السمن والعسل فأرى الناس يتكففون منها بأيديهم فالمستكثر والمستقل وأرى سببا واصلا من السماء إلى الأرض فأراك أخذت به فعلوت ثم أخذ به رجل من بعدك فعلا ثم أخذ به رجل آخ
سنن أبي داود
3268
أصبت بعضا وأخطأت بعضا فقال أقسمت عليك يا رسول الله بأبي أنت لتحدثني ما الذي أخطأت فقال له النبي لا تقسم
سنن أبي داود
4632
أرى الليلة ظلة ينطف منها السمن والعسل فأرى الناس يتكففون بأيديهم فالمستكثر والمستقل وأرى سببا واصلا من السماء إلى الأرض فأراك يا رسول الله أخذت به فعلوت به ثم أخذ به رجل آخر فعلا به ثم أخذ به رجل آخر فعلا به ثم أخذ به رجل آخر فانقطع ثم وصل فعلا به قال أبو
سنن ابن ماجه
3918
أصبت بعضا وأخطأت بعضا قال أبو بكر أقسمت عليك يا رسول الله لتخبرني بالذي أصبت من الذي أخطأت فقال النبي لا تقسم يا أبا بكر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3918 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3918
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگ اور استاد کی اجازت سے عام آدمی یا شاگرد تعبیر بیان کرسکتا ہے۔

(2)
رسی پکڑنے سے مراد دین پر عمل کرنا اور تین بزرگوں کا اس رسی کو پکڑنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور خلافت کے منصب پر فائز ہونا ہے۔

(3)
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسی کا ٹوٹ جانا ان مشکلات اور فتنوں کی طرف اشارہ ہے جو انھیں پیش آئے۔
اور اسی رسی کے جڑجانے کے بعد اس کے ذریعے سے اوپر چلے جانے سے غالباً یہ اشارہ ہے کہ وہ اس فتنے میں حق پر ہوں گے لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دونوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی جنت میں ہوں گے۔

(4)
کسی حکمت کی بنا پر خواب کے کچھ کی حصے کی تعبیر بتانا اور کچھ نہ بتانا جائز ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعبیر میں واقع ہونے والی غلطی کی وضاحت نہیں فرمائی۔

(5)
اس سچے خواب میں خلفائے ثلاثہ کی عظمت وشان کا اظہار ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3918]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4632
خلفاء کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4632]
فوائد ومسائل:

سچے اور عمدہ خواب مومن کے لیے نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیے گئے ہیں اور ان کے ذریعے سے بندے کو بعض امور کی اطلاع یا بعض امور سے متنبہ کیا جاتا ہے۔


مذکورہ بالا خواب میں خلا فت نبوت کی طرف اشارہ تھا۔
جسے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بجا طور پر سمجھ گئے تھے۔
اس میں غلطی کیا تھی؟ تو اس کے در پے ہونا قطعاً روا نہیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت نہیں فرمائی تو کسی اور کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ظن و تخمیم سے کوئی بات کہے۔


کسی کو لفظ قسم کے ساتھ قسم دینے سے اس کی تعمیل واجب نہیں ہوجاتی۔


کسی تلمیذ یا ادنی کو جائز ہے کہ اپنے شیخ یا بڑے کے ہوتے ہوئے اس کی اجازت سے کسی سوال کا جواب دے یا اس پر بحث کرے۔
یہ خلاف ادب شمار نہیں ہوگا۔
بلا اجازت بولنا البتہ بے ادبی ہوگی۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4632]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5928
0 [صحيح مسلم، حديث نمبر:5928]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ظلة:
سائبان،
بادل کا ٹکڑا۔
(2)
تنطف:
ٹپک رہا ہے،
قطرہ قطرہ گر رہا ہے۔
(3)
يتكففون:
لینے کے لیے ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے ہیں۔
(4)
لتدعني فلاعبر لها:
آپ مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے کے لیے چھوڑ دیں گے،
تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیں گے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
بڑے کی موجودگی میں چھوٹا اس کی اجازت سے،
اپنی معلومات بیان کر سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5928]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ ظُلَّةً بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ تَنْطِفُ سَمْنًا وَعَسَلًا , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک سایہ (بادل کا ایک ٹکڑا) دیکھا، جس سے شہد اور گھی ٹپک رہا تھا، پھر راوی نے باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3918M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان والنذور 13 (3268، 4632)، سنن الترمذی/الرؤیا 9 (2293)، (تحفة الأشراف: 13575)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر 47 (7046)، صحیح مسلم/الرؤیا 3 (2269)، سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2202)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
Sunan Ibn Majah Hadith 3918 in Urdu