🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب في تاويل الرؤيا:
باب: خوابوں کی تعبیر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2269 ترقیم شاملہ: -- 5928
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّوَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ: " أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُرْهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ، فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، قَالَ: فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ: لَا تُقْسِمْ ".
محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس زبیدی نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انہیں بغیر شک کے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، لوگ اس کو اپنے ہونٹوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما، وہ بھی چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجیے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5928]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2269
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← حرملة بن يحيى التجيبي
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل
Newمحمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن حرب الخولاني، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب الخولاني ← محمد بن الوليد الزبيدي
ثقة
👤←👥حاجب بن الوليد الأعور، أبو أحمد
Newحاجب بن الوليد الأعور ← محمد بن حرب الخولاني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5928
أرى الليلة في المنام ظلة تنطف السمن والعسل فأرى الناس يتكففون منها بأيديهم فالمستكثر والمستقل وأرى سببا واصلا من السماء إلى الأرض فأراك أخذت به فعلوت ثم أخذ به رجل من بعدك فعلا ثم أخذ به رجل آخ
سنن أبي داود
3268
أصبت بعضا وأخطأت بعضا فقال أقسمت عليك يا رسول الله بأبي أنت لتحدثني ما الذي أخطأت فقال له النبي لا تقسم
سنن أبي داود
4632
أرى الليلة ظلة ينطف منها السمن والعسل فأرى الناس يتكففون بأيديهم فالمستكثر والمستقل وأرى سببا واصلا من السماء إلى الأرض فأراك يا رسول الله أخذت به فعلوت به ثم أخذ به رجل آخر فعلا به ثم أخذ به رجل آخر فعلا به ثم أخذ به رجل آخر فانقطع ثم وصل فعلا به قال أبو
سنن ابن ماجه
3918
أصبت بعضا وأخطأت بعضا قال أبو بكر أقسمت عليك يا رسول الله لتخبرني بالذي أصبت من الذي أخطأت فقال النبي لا تقسم يا أبا بكر
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5928 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5928
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ظلة:
سائبان،
بادل کا ٹکڑا۔
(2)
تنطف:
ٹپک رہا ہے،
قطرہ قطرہ گر رہا ہے۔
(3)
يتكففون:
لینے کے لیے ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے ہیں۔
(4)
لتدعني فلاعبر لها:
آپ مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے کے لیے چھوڑ دیں گے،
تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیں گے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
بڑے کی موجودگی میں چھوٹا اس کی اجازت سے،
اپنی معلومات بیان کر سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5928]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4632
خلفاء کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4632]
فوائد ومسائل:

سچے اور عمدہ خواب مومن کے لیے نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیے گئے ہیں اور ان کے ذریعے سے بندے کو بعض امور کی اطلاع یا بعض امور سے متنبہ کیا جاتا ہے۔


مذکورہ بالا خواب میں خلا فت نبوت کی طرف اشارہ تھا۔
جسے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بجا طور پر سمجھ گئے تھے۔
اس میں غلطی کیا تھی؟ تو اس کے در پے ہونا قطعاً روا نہیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت نہیں فرمائی تو کسی اور کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ظن و تخمیم سے کوئی بات کہے۔


کسی کو لفظ قسم کے ساتھ قسم دینے سے اس کی تعمیل واجب نہیں ہوجاتی۔


کسی تلمیذ یا ادنی کو جائز ہے کہ اپنے شیخ یا بڑے کے ہوتے ہوئے اس کی اجازت سے کسی سوال کا جواب دے یا اس پر بحث کرے۔
یہ خلاف ادب شمار نہیں ہوگا۔
بلا اجازت بولنا البتہ بے ادبی ہوگی۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4632]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3918
خواب کی تعبیر کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا، اس وقت آپ جنگ احد سے واپس تشریف لائے تھے، اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں بادل کا ایک سایہ (ٹکڑا) دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس میں سے ہتھیلی بھربھر کر لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا، کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان تک تنی ہوئی ہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے وہ رسی پکڑی اور اوپر چڑھ گئے، آپ کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑی تو وہ بھی اوپر چڑ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3918]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگ اور استاد کی اجازت سے عام آدمی یا شاگرد تعبیر بیان کرسکتا ہے۔

(2)
رسی پکڑنے سے مراد دین پر عمل کرنا اور تین بزرگوں کا اس رسی کو پکڑنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور خلافت کے منصب پر فائز ہونا ہے۔

(3)
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسی کا ٹوٹ جانا ان مشکلات اور فتنوں کی طرف اشارہ ہے جو انھیں پیش آئے۔
اور اسی رسی کے جڑجانے کے بعد اس کے ذریعے سے اوپر چلے جانے سے غالباً یہ اشارہ ہے کہ وہ اس فتنے میں حق پر ہوں گے لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دونوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی جنت میں ہوں گے۔

(4)
کسی حکمت کی بنا پر خواب کے کچھ کی حصے کی تعبیر بتانا اور کچھ نہ بتانا جائز ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعبیر میں واقع ہونے والی غلطی کی وضاحت نہیں فرمائی۔

(5)
اس سچے خواب میں خلفائے ثلاثہ کی عظمت وشان کا اظہار ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3918]

Sahih Muslim Hadith 5928 in Urdu