🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : كف اللسان في الفتنة
باب: فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3975
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى أُمَرَائِنَا , فَنَقُولُ الْقَوْلَ , فَإِذَا خَرَجْنَا قُلْنَا غَيْرَهُ , قَالَ:" كُنَّا نَعُدُّ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ".
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7090، ومصباح الزجاجة: 1400)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الأحکام 27 (7178)، مسند احمد (2/15) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥جابر بن زيد الأزدي، أبو الشعثاء
Newجابر بن زيد الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← جابر بن زيد الأزدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم النخعي
ثقة حافظ
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف
Newيعلى بن عبيد الطناقسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← يعلى بن عبيد الطناقسي
ثقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3975 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3975
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان کا ظاہر اور باطن ایک ہونا چاہیے۔

(2)
حکمرانوں کے سامنے صحیح صورت حال پیش کرنا اور صحیح رائے دینا ضروری ہے ان کی خوشنودی کے لیے غلط کام کو غلط جانتے ہوئے بھی اس کی تعریف کرنا بہت بڑی اخلاقی کمزوری ہے جس سے حکمران کو بھی نقصان ہوتا ہےاور مسلم عوام کو بھی۔

(3)
منافقانہ طرز عمل جھوٹ دھوکے اور خوشامد پر مبنی ہوتا ہےاور یہ سب بری عادتیں ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3975]

Sunan Ibn Majah Hadith 3975 in Urdu