🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : الآيات
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , وَابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا , وَالدُّخَانَ , وَدَابَّةَ الْأَرْضِ , وَالدَّجَّالَ , وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ , وَأَمْرَ الْعَامَّةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا)، دجال، ہر شخص کی خاص آفت (یعنی موت)، عام آفت (جیسے وبا وغیرہ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 854، ومصباح الزجاجة: 1431) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (سنان بن سعیدیہ سعد بن سنان کندی مصری ہیں صدوق ہیں، اس لئے یہ سند حسن ہے لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 759)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥سعد بن سنان الكندي
Newسعد بن سنان الكندي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق له أفراد
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← سعد بن سنان الكندي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ضعيف الحديث
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4056
بادروا بالأعمال ستا طلوع الشمس من مغربها والدخان ودابة الأرض والدجال وخويصة أحدكم وأمر العامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4056 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4056
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مغرب سے سورج طلوع ہونے پر توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
اس لیے اس سے پہلے پہلے خلوص دل سے توبہ کرکے نجات کا بندوبست کرلینا ضروری ہے۔

(2)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ دھوئیں کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے کفر اور ظلم کی وجہ سے ان کےخلاف بددعا کی تو ان پر قحط مسلط ہوا حتی کہ بھوک کی وجہ انھیں فضا صاف ہونے کے باوجود دھواں ہی دھواں محسوس ہوتے تھی۔ (صحيح البخاري، التفسير، سورة حم الدخان، باب (يغشي الناس هذا عذاب اليم)
حديث: 4861)
لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ انصار میں سے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنا شروع کی جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کردہ واقعہ مکی دور کا ہے۔

(3)
زندگی میں نیک اعمال کمائے جاسکتے ہیں، موت کے بعد یہ موقع ختم ہوجاتا ہے، اس لیے اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

(4)
بہت سے فتنے ایسے ہیں جن میں انسان گمراہ ہوسکتا ہے، اس سے پہلے نیکیاں کرنے سے امید کی جاسکتی ہے کہ فتنے کے دوران میں اللہ کی طرف رہنمائی اور توفیق حاصل ہوجائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4056]