سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : الهم بالدنيا
باب: دنیا کے غم و فکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ , قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ , تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى , وَأَسُدَّ فَقْرَكَ , وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ , مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا , وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4107]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے: ”آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ استغنا سے بھر دوں گا اور تیرا فقر دور کر دوں گا۔ اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیرا فقر دور نہیں کروں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 30 (2466)، (تحفة الأشراف: 14881)، وقد أخرجہ: (حم 2/358) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2466
| تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى وأسد فقرك وإلا تفعل ملأت يديك شغلا ولم أسد فقرك |
سنن ابن ماجه |
4107
| تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى وأسد فقرك وإن لم تفعل ملأت صدرك شغلا ولم أسد فقرك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4107 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4107
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کی تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے روزی کمانے کا مقصد صرف اتنی جسمانی قوت کا حصول ہے جس سے اللہ کے احکام کی تعمیل کما حقہ ہوسکے۔
(2)
عبادت کے لیے فارغ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ روز مرہ کے پروگرام میں بنیادی اہمیت عبادت کو دی جائے اور دنیاوی ضروریات کے دوران میں بھی اللہ کے احکام کی تعمیل کی نیت ہو، تاکہ یہ اعمال بھی عبادت بن جائیں۔
(3)
دینی اور دنیاوی اعمال میں فرائض کو نوافل پر فوقیت حاصل ہے لہٰذا اگر کسی نفلی عمل سے فرض کی ادائیگی متاثر ہوتی ہوتو فرض کو اہمیت دی جائے نفلی کام کو کسی اور مناسب موقع کے لیے مؤخر کردیا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کی تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے روزی کمانے کا مقصد صرف اتنی جسمانی قوت کا حصول ہے جس سے اللہ کے احکام کی تعمیل کما حقہ ہوسکے۔
(2)
عبادت کے لیے فارغ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ روز مرہ کے پروگرام میں بنیادی اہمیت عبادت کو دی جائے اور دنیاوی ضروریات کے دوران میں بھی اللہ کے احکام کی تعمیل کی نیت ہو، تاکہ یہ اعمال بھی عبادت بن جائیں۔
(3)
دینی اور دنیاوی اعمال میں فرائض کو نوافل پر فوقیت حاصل ہے لہٰذا اگر کسی نفلی عمل سے فرض کی ادائیگی متاثر ہوتی ہوتو فرض کو اہمیت دی جائے نفلی کام کو کسی اور مناسب موقع کے لیے مؤخر کردیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4107]
Sunan Ibn Majah Hadith 4107 in Urdu
هرم الوالبي ← أبو هريرة الدوسي