پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : معيشة أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4158
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8 , قَالَ الزُّبَيْرُ:" وَأَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ , وَإِنَّمَا هُوَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ" , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ.
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ”پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا“ (سورة اتكاثر: 8) نازل ہوئی، تو انہوں نے کہا: کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں: پانی اور کھجور ہی میسر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4158]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [سورة التكاثر: 8] ”پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال ہوگا۔“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا؟ ہمیں تو صرف پانی اور کھجوریں ہی میسر ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! یہ (سوال) ضرور ہوگا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 88 (3356)، (تحفة الأشراف: 3625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/163) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3356
| أي النعيم نسأل عنه وإنما هما الأسودان التمر والماء قال أما إنه سيكون |
سنن ابن ماجه |
4158
| أي نعيم نسأل عنه وإنما هو الأسودان التمر والماء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4158 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4158
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جو نعمتیں ہماری نظر میں معمولی ہیں غور کیا جائے تو وہ بھی بڑی نعمتیں ہیں لہٰذا ان کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔
(2)
معمولی سے معمولی غذا بھی بھوکا رہنے کے مقابلے میں بہت بڑی نعمت ہے۔
(3)
آگاہ رہو! یہ ضرور ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں:
ایک یہ کہ اگر آج تمھارے پاس نعمتوں کی فراوانی نہیں ہے تو عن قریب یہ ہوجائے گی یعنی فتوحات ہوں گی اور تمھیں وافر مقدار میں غنیمتیں حاصل ہوں گی لہذا تمھیں بہت سی نعمتیں میسر ہونگی۔
دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ ہر ایک انسان کو دنیا میں تھوڑا بہت مال ومتاع ملا ہی ہے یعنی کسی کو کم کسی کو زیادہ لہٰذا قیامت کے دن ہر شخص سے اس کو دی جانے والی ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا ہماری رائے میں دوسرا مفہوم راجح ہے۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
جو نعمتیں ہماری نظر میں معمولی ہیں غور کیا جائے تو وہ بھی بڑی نعمتیں ہیں لہٰذا ان کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔
(2)
معمولی سے معمولی غذا بھی بھوکا رہنے کے مقابلے میں بہت بڑی نعمت ہے۔
(3)
آگاہ رہو! یہ ضرور ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں:
ایک یہ کہ اگر آج تمھارے پاس نعمتوں کی فراوانی نہیں ہے تو عن قریب یہ ہوجائے گی یعنی فتوحات ہوں گی اور تمھیں وافر مقدار میں غنیمتیں حاصل ہوں گی لہذا تمھیں بہت سی نعمتیں میسر ہونگی۔
دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ ہر ایک انسان کو دنیا میں تھوڑا بہت مال ومتاع ملا ہی ہے یعنی کسی کو کم کسی کو زیادہ لہٰذا قیامت کے دن ہر شخص سے اس کو دی جانے والی ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا ہماری رائے میں دوسرا مفہوم راجح ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4158]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3356
سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ”اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا“ (التکاثر: ۸)، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی (کالی) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا: ”عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3356]
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ”اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا“ (التکاثر: ۸)، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی (کالی) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا: ”عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3356]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا (التکاثر: 8)
2؎:
یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا،
اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔
3؎:
مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں،
اورپانی کو اغلباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب (الأَسوَدَانِ) (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔
وضاحت:
1؎:
اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا (التکاثر: 8)
2؎:
یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا،
اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔
3؎:
مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں،
اورپانی کو اغلباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب (الأَسوَدَانِ) (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3356]
Sunan Ibn Majah Hadith 4158 in Urdu
عبد الله بن الزبير الأسدي ← الزبير بن العوام الأسدي