سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : النية
باب: نیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4228
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَثَلِ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا , فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ , وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا , فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ , وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا , فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ , وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ عِلْمًا وَلَا مَالًا , فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ".
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس اس آدمی کے جیسا مال ہوتا تو میں اس (تیسرے) شخص کی طرح کرتا یعنی ناحق خرچ کرتا“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4228]
حضرت ابو کبشہ (سعید بن عمرو) انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کی مثال چار افراد کی سی ہے: ایک آدمی وہ ہے جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا، وہ اپنے مال میں علم کے مطابق عمل کرتا ہے اور اسے جائز مقام پر خرچ کرتا ہے؛ ایک (دوسرا) آدمی وہ ہے جسے اللہ نے علم دیا اور مال نہیں دیا، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح (مال) ہوتا تو میں بھی اس (مال) سے ویسے ہی عمل سر انجام دیتا جیسے یہ (نیک مال دار) انجام دیتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثواب میں یہ دونوں برابر ہیں۔ اور ایک (تیسرا) آدمی وہ ہے جسے اللہ نے مال دیا اور علم نہیں دیا، چنانچہ وہ اپنے مال کو اندھا دھند صرف کرتا ہے (یعنی) ناجائز مقام پر خرچ کرتا ہے؛ اور ایک (چوتھا) آدمی وہ ہے جسے اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال دیا، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس (برے مال دار) شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اس (مال) سے ویسے ہی کام کرتا جیسے یہ (برا مال دار) کرتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں (تیسرا اور چوتھا) گناہ میں برابر ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12146)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 17 (2325)، مسند احمد (4/230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4228
| مثل هذه الأمة كمثل أربعة نفر رجل آتاه الله مالا وعلما فهو يعمل بعلمه في ماله ينفقه في حقه ورجل آتاه الله علما ولم يؤته مالا فهو يقول لو كان لي مثل هذا عملت فيه مثل الذي يعمل قال رسول الله فهما في الأجر سواء ورجل آتاه الله مالا ولم يؤته علما فهو يخبط في ما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4228 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4228
اردو حاشہ:
فوائدومسائل:
(1)
اگر انسان ایک نیکی کی خواہش رکھتا ہو لیکن کسی عذر کی وجہ سے اسے نہ کرسکتا ہو تو اس کی اچھی نیت کی وجہ سےاسے ثواب ملتا ہے۔
(2)
اگر کوئی شخص ایک نیکی کرے لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے انجام نہ دے سکے وہ بھی ثواب کا مستحق ہو گا۔
(3)
گناہ کی خواہش ہو لیکن انسان اس کا ارتکاب کرنے سے معذور ہو یا گناہ کی کوشش کرے اور کامیاب نہ ہو تب بھی گناہ گار ہوتا ہے۔
(4)
اگر دل میں گناہ کی خواہش پیدا ہو لیکن اللہ کی رضا کے لیے اس کے ارتکاب سے پرہیز کیا جائے تو ثواب ملتا ہے۔
(5)
نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت اسی طرح نیک کام کرنے والوں سے محبت اور برے کام کرنے والوں سے نفرت بھی ثواب کا باعث ہے۔
فوائدومسائل:
(1)
اگر انسان ایک نیکی کی خواہش رکھتا ہو لیکن کسی عذر کی وجہ سے اسے نہ کرسکتا ہو تو اس کی اچھی نیت کی وجہ سےاسے ثواب ملتا ہے۔
(2)
اگر کوئی شخص ایک نیکی کرے لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے انجام نہ دے سکے وہ بھی ثواب کا مستحق ہو گا۔
(3)
گناہ کی خواہش ہو لیکن انسان اس کا ارتکاب کرنے سے معذور ہو یا گناہ کی کوشش کرے اور کامیاب نہ ہو تب بھی گناہ گار ہوتا ہے۔
(4)
اگر دل میں گناہ کی خواہش پیدا ہو لیکن اللہ کی رضا کے لیے اس کے ارتکاب سے پرہیز کیا جائے تو ثواب ملتا ہے۔
(5)
نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت اسی طرح نیک کام کرنے والوں سے محبت اور برے کام کرنے والوں سے نفرت بھی ثواب کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4228]
حدیث نمبر: 4228M
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ مُفَضَّلٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
ان دونوں سندوں سے بھی ابوکبشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4228M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 4228 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← سعيد بن عمرو الأنماري