🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب : ذكر الذنوب
باب: گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4244
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل , وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ , فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ , صُقِلَ قَلْبُهُ , فَإِنْ زَادَ زَادَتْ , فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ (داغ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ (گناہ میں) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں (سورة المطففين: 14)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4244]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے، باز آجائے اور (اللہ سے) بخشش کی درخواست کرے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔ اگر مزید گناہ کرے تو سیاہی کا نقطہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ (حتی کہ ہوتے ہوتے دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے۔) یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں (اس فرمان میں) کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 74 (3334)، (تحفة الأشراف: 12862)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / ت+3334 ، نك+11658

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥القعقاع بن حكيم الكناني
Newالقعقاع بن حكيم الكناني ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← القعقاع بن حكيم الكناني
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3334
العبد إذا أخطأ خطيئة نكتت في قلبه نكتة سوداء فإذا هو نزع واستغفر وتاب سقل قلبه وإن عاد زيد فيها حتى تعلو قلبه وهو الران الذي ذكر الله كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون
سنن ابن ماجه
4244
المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه فإن تاب ونزع واستغفر صقل قلبه فإن زاد زادت فذلك الران الذي ذكره الله في كتابه كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4244 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4244
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گناہ ہوجائے تو جلد سے جلد توبہ کرنی چاہیے۔

(2)
گناہوں کی وجہ سے دل سیاہ ہونے کا یہ نقصان ہوتا ہے۔
کہ نیکی سے محبت او ر گناہ سے نفرت ختم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔

(3)
روحانی بیماریوں کا علاج اللہ کی یاد قرآن کی تلاوت توبہ واستغفار اور موت کی یاد ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4244]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3334
سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے (سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے (المطففین: ۱۴)، میں کیا ہے۔‏‏‏۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3334]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے (المطففین: 14)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3334]

Sunan Ibn Majah Hadith 4244 in Urdu