🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : ذكر الشفاعة
باب: شفاعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , وَأَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ , وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ , وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ , وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ فخریہ نہیں کہتا، قیامت کے دن زمین سب سے پہلے میرے لیے پھٹے گی، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی، اور میں فخریہ نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 18 (3148)، المناقب 1 (3615)، (تحفة الأشراف: 4367)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/2) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← المنذر بن مالك العوفي
ضعيف الحديث
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← علي بن زيد القرشي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الهروي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن عبد الله الهروي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة
👤←👥مجاهد بن موسى الختلي، أبو علي
Newمجاهد بن موسى الختلي ← إبراهيم بن عبد الله الهروي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4308
أنا سيد ولد آدم ولا فخر وأنا أول من تنشق الأرض عنه يوم القيامة ولا فخر وأنا أول شافع وأول مشفع ولا فخر ولواء الحمد بيدي يوم القيامة ولا فخر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4308 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4308
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خوبیاں خود بیان فرمائی ہیں کیونکہ ان کا تعلق مستقبل سے ہے۔
جو بتائے بغیر معلوم نہیں ہو سکتیں۔

(1)
ان خصائص کے بیان کرنے کا مقصد حقیقت حال سے آگاہ کرنا ہے اظہار فخر نہیں۔

(3)
بعض حالات میں اپنی خوبیاں بیان کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے جیے یوسف علیہ سلام نے فرمایا تھا ﴿اِجْعَلْنِی عَلٰی خَزَآئنِ الْأَرْضِ اِنِّی حَفِیْظٌ عَلِیْم﴾ (یوسف: 12: 55)
آپ مجھے زمین کے خزانوں کا مالک مقرر کر دیجیے میں حفاطت کرنے والا اور با خبر ہوں۔
یہ ممنوعہ خود ستائی میں شامل نیہں۔

(4)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے سردار ہیں یعنی حضرت آدم علیہ سلام سے لیکر قیامت تک پیدا ہونے والےتمام انسانوں میں سب سے افضل ہیں چناچہ تمام انبیاء اور رسولوں سے بھی افضل ہیں اسی لیے جنت کا مقم وسیلہ اور محشر میں مقام محمود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے مخصوص ہیں۔

(5)
جھنڈا بھی قیادت کی علامت ہے۔
رسول کا جھنڈا حمد کا جھنڈا (لواء الحمد)
ہیں۔
سب کائنات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرے گئی جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی حمد و ثناء فرمائے گے۔

(6)
قبروں سے اٹھنا قیامت کی ابتداء ہے اور جنت میں داخلہ اس سلسلے کی انتہا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں میں اولیت کا شرف حاصل ہے کہ دوبارہ زندہ ہوکہ قبروں سے اٹھنے میں بھی نبی کو اولیت حاصل ھوگی اور جنت کا دروازہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھولا جائے گا۔

(7)
قیامت کے دن شفاعت اللہ تعالی کی اجازت سے ہوگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرش کے نیچے تشریف لے جاکر ایک طویل سجدہ کریں گے اور اللہ تعالی کی وہ تعریفیں کریں گے جو پہلے نہ کبھی کی ہوگی تب رسولّ کو شفاعت کی اجازت دی جاےگی۔
اور وہ شفاعت قبول بھی کی جائےگی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے انبیاء علیہم السلام پھر شہداء، حفاظ کرام اور دوسرے نیک لوگ درجہ بدرجہ اللہ تعالی سے شفاعت کریں گے۔

(8)
ان تمام تفصیلات پہ ایمان لانا آخرت پہ لانے میں شامل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4308]