🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : ذكر الشفاعة
باب: شفاعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلْهَمُونَ أَوْ يَهُمُّونَ , شَكَّ سَعِيدٌ , فَيَقُولُونَ: لَوْ تَشَفَّعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ , خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ , وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ , فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ يُرِحْنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَيَذْكُرُ وَيَشْكُو إِلَيْهِمْ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ , وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ , فَيَأْتُونَهُ , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ , وَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ , وَلَكِنْ ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ إِبْرَاهِيمَ , فَيَأْتُونَهُ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ , وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ , فَيَأْتُونَهُ , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَيَذْكُرُ قَتْلَهُ النَّفْسَ بِغَيْرِ النَّفْسِ , وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ , فَيَأْتُونَهُ , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ , قَالَ: فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ" , قَالَ: فَذَكَرَ هَذَا الْحَرْفَ عَنْ الْحَسَنِ , قَالَ:" فَأَمْشِي بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" , قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ , قَالَ:" فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي , فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ يَا مُحَمَّدُ , وَقُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا , فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ , فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: لِي ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ , فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ , فَأَقُولُ: يَا رَبِّ , مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ". (حديث موقوف) (حديث قدسي) قَالَ: يَقُولُ قَتَادَةُ : عَلَى أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ , وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ , وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ , وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، (یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں - آپ اپنے کئے ہوئے گناہ کو یاد کر کے اس کا شکوہ ان لوگوں کے سامنے کریں گے، اور اس بات سے شرمندہ ہوں گے، پھر فرمائیں گے: لیکن تم سب نوح کے پاس جاؤ اس لیے کہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے پاس بھیجا، وہ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو آپ ان سے کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اللہ کے حضور جاؤں، اور آپ اپنے اس سوال کو یاد کر کے شرمندہ ہوں گے جو آپ نے اپنے رب سے اس چیز کے بارے میں کیا تھا جس کا آپ کو علم نہیں تھا - پھر کہیں گے کہ لیکن تم سب ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ، وہ سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو آپ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، لیکن تم سب موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کی، اور ان کو تورات عطا کی، وہ سب ان کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں (وہ اپنا وہ قتل یاد کریں گے جو ان سے بغیر کسی خون کے مقابل ہو گیا تھا)، لیکن تم سب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اور اس کا کلمہ و روح ہیں، وہ سب ان کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، لیکن تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چلوں گا (حسن کی روایت کے مطابق مومنوں کی دونوں صفوں کے درمیان چلوں گا) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، اور کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اس کی حمد بیان کروں گا جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں دوبارہ لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، تم کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کی تعریف کروں گا، جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اور وہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں تیسری بار لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کے سکھائے ہوئے طریقے سے اس کی حمد کروں گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، پھر ان کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا، اور کہوں گا: اے میرے رب! اب تو کوئی باقی نہیں ہے، سوائے اس کے جس کو قرآن نے روکا ہے یعنی جو قرآن کی تعلیمات کی رو سے جہنم کے لائق ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے۔ پھر انہیں الہام ہوگا، یا فرمایا: وہ فکر مند ہوں گے۔ (حدیث کے راوی) سعید کو شک ہوا ہے تب وہ کہیں گے: کاش ہم اپنے رب کے دربار میں (کسی کی) سفارش پیش کریں تو وہ ہمیں اس جگہ سے (منتقل کر کے) راحت نصیب فرمائے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: آپ آدم ہیں جو سب انسانوں کے والد ہیں، آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس کے فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے کہ ہمیں اس مقام سے راحت نصیب فرمائے۔ وہ کہیں گے: میں اس قابل نہیں، اور اپنے اس گناہ کا ذکر اور شکایت کریں گے جو ان سے سرزد ہو گیا تھا (جس درخت سے منع کیا گیا تھا اس کا پھل کھا لیا تھا) وہ اپنے رب سے شرم محسوس کریں گے (اور کہیں گے): نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں، وہ اس بات کا ذکر کر کے شرم محسوس کریں گے کہ انہوں نے اپنے رب سے ایسا سوال کیا تھا جس کی حقیقت کا انہیں علم نہیں تھا۔ (وہ کہیں گے): لیکن تم اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ نے (براہِ راست) کلام فرمایا اور انہیں تورات عطا فرمائی۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں، وہ ایک آدمی کے بے گناہ قتل کرنے کا ذکر فرمائیں گے۔ (وہ کہیں گے): لیکن عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں لیکن تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں چل پڑوں گا۔ ایک روایت میں ہے: میں مومنوں کی دو صفوں کے درمیان سے گزر کر جاؤں گا اور فرمایا: میں اپنے رب کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے (سجدے میں) رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا: محمد! سر اٹھائیے! بات کیجیے آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا۔ (چنانچہ) میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ اللہ ان لوگوں کو (جن کے حق میں شفاعت کی اجازت دی ہوگی) جنت میں داخل کر دے گا۔ پھر میں دوسری بار جاؤں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے (سجدے میں) رہنے دے گا۔ پھر مجھے کہا جائے گا: محمد! سر اٹھائیے! بات کیجیے! آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں سر اٹھا کر اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا۔ (چنانچہ) میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ اللہ ان لوگوں کو (جن کے حق میں شفاعت کی اجازت دی ہوگی) جنت میں داخل کر دے گا۔ پھر میں تیسری بار جاؤں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا۔ تو سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے (سجدے میں) رہنے دے گا پھر مجھے کہا جائے گا: محمد! سر اٹھائیے! بات کیجیے! آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں سر اٹھا کر اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا (چنانچہ) میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی اور اللہ ان لوگوں کو جنت میں داخل کر دے گا (جن کے حق میں شفاعت کی اجازت دی ہوگی) پھر میں چوتھی بار جاؤں گا اور عرض کروں گا: میرے رب! (جہنم میں) صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 1 (4476)، صحیح مسلم/الإیمان 84 (193)، (تحفة الأشراف: 1171، 1194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/116، 244) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غرض اللہ تعالی کے فضل سے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بڑی امید ہے کہ کوئی موحد بھی جس کے دل میں رتی برابر ایمان ہو ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← قتادة بن دعامة السدوسي
صحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
44
يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن برة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن ذرة من خير
صحيح مسلم
478
يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة
جامع الترمذي
2593
أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة
سنن ابن ماجه
4312
يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال برة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال ذرة من خير
المعجم الصغير للطبراني
823
أخرجوا من النار من كان فى قلبه مثقال شعيرة من إيمان ، ثم يقول : أخرجوا من النار من كان فى قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان ، ثم يقول : وعزتي وجلالي : لا أجعل من آمن بي ساعة من ليل أو نهار كمن لا يؤمن بي
مسندالحميدي
1238
فآخذ بحلقة الجنة فأقعقعها
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7410
لو استشفعنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا يأتون آدم فيقولون يا آدم أما ترى الناس خلقك الله بيده أسجد لك ملائكته علمك أسماء كل شيء اشفع لنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول لست هناك ويذكر لهم خطي
صحيح البخاري
7516
لو استشفعنا إلى ربنا فيريحنا من مكاننا هذا يأتون آدم فيقولون له أنت آدم أبو البشر خلقك الله بيده أسجد لك الملائكة علمك أسماء كل شيء فاشفع لنا إلى ربنا حتى يريحنا فيقول لهم لست هناكم فيذكر لهم خطيئته التي أصاب
صحيح البخاري
7510
إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم في بعض فيأتون آدم فيقولون اشفع لنا إلى ربك فيقول لست لها ولكن عليكم بإبراهيم فإنه خليل الرحمن فيأتون إبراهيم فيقول لست لها ولكن عليكم بموسى فإنه كليم الله فيأتون موسى فيقول لست لها ولكن عليكم بعيسى فإنه روح الله
صحيح البخاري
6565
لو استشفعنا على ربنا حتى يريحنا من مكاننا يأتون آدم فيقولون أنت الذي خلقك الله بيده نفخ فيك من روحه أمر الملائكة فسجدوا لك اشفع لنا عند ربنا فيقول لست هناكم يذكر خطيئته يقول ائتوا نوحا أول رسول بعثه الله فيأتو
صحيح البخاري
7509
إذا كان يوم القيامة شفعت فقلت يا رب أدخل الجنة من كان في قلبه خردلة فيدخلون أدخل الجنة من كان في قلبه أدنى شيء
صحيح البخاري
4476
لو استشفعنا إلى ربنا يأتون آدم فيقولون أنت أبو الناس خلقك الله بيده أسجد لك ملائكته علمك أسماء كل شيء اشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول لست هناكم ويذكر ذنبه فيستحي ائتوا نوحا فإنه أول رسول بعثه الله
صحيح مسلم
475
لو استشفعنا على ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا يأتون آدم فيقولون أنت آدم أبو الخلق خلقك الله بيده نفخ فيك من روحه أمر الملائكة فسجدوا لك اشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول لست هناكم فيذكر خطيئته التي أصاب فيستحيي ربه منها ول
صحيح مسلم
479
إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم إلى بعض فيأتون آدم فيقولون له اشفع لذريتك فيقول لست لها ولكن عليكم بإبراهيم فإنه خليل الله فيأتون إبراهيم فيقول لست لها ولكن عليكم بموسى فإنه كليم الله فيؤتى موسى فيقول لست لها ولكن عليكم
صحيح مسلم
486
آتي باب الجنة يوم القيامة فأستفتح يقول الخازن من أنت فأقول محمد فيقول بك أمرت لا أفتح لأحد قبلك
سنن ابن ماجه
4312
لو تشفعنا إلى ربنا فأراحنا من مكاننا يأتون آدم فيقولون أنت آدم أبو الناس خلقك الله بيده أسجد لك ملائكته اشفع لنا عند ربك يرحنا من مكاننا هذا فيقول لست هناكم يذكر ويشكو إليهم ذنبه الذي أصاب فيستحيي من ذلك ائتوا نوحا فإنه أول رسول بعثه الله إلى أهل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4312 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4312
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
قیامت کے مراحل انتہائی شدید ہون گے لہٰذا ان مراحل میں آسانی کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکییاں کرنےکی اور برائیوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(2)
انبیاء کرام پر بھی قیامت کے دن خشیت الہی کی کیفیت کا غلبہ ہوگا اور انھیں اپنی معاف شدہ لغزشیں بھی بڑے گناہوں کی طرح۔
خطرناک محسوس ہوگی۔

(3)
لوگ انبیاء کرام کو انکا بلند مقام اور فضائل یاد دلا کر کوشش کریں گے کہ وہ اللہ سے انکی شفاعت کریں لیکن ہر نبی دوسرے نبی کے پاس جانے کا مشورہ دے کر خود شفاعت کرنے سے معذرت کرلے گا۔

(4)
شفاعت کبرٰی کا مقام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہے۔
اس لیے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جائیگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم معذرت نہیں کریں گے۔

(5)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں بھی اللہ تعالی کی عظمت کا احساس پوری طرح موجود ہوگا اس لیے براہ راست اصل مقصود عرض کرنے کی بجائےپہلے سجدہ کرکے اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے۔

(6)
سجدہ بندے کو اللہ کا قرب بخشنے والی عظیم عبادت ہےاور دعا کے آداب میں یہ شامل ہے۔
کہ پہلے حمد و ثناء بیان کی جائےاور درود پڑھا جائے پھر دعا کی جائے۔

(7)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے اجازت طلب کریں گے۔
پھر مقام شفاعت پہ تشریف لے جائیں گے۔
کیونکہ اللہ تعالی مالک الملک اور شہنشاہ ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایک مقرب بندے ہیں جو درخواست پیش کر سکتے ہیں۔
اور قبولیت کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن اللہ کے حکم کے برعکس کچھ نہیں کر سکتے۔

(8)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے اس لیے اللہ کی اس وقت جو تعریفیں کریں گے وہ اسی وقت سکھائی جائیں گی۔
پہلے سے معلوم نہیں ہوگی۔

(9)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں فرمائیں گے اور جو شفاعت ملے گی وہ بھی لامحدود نہیں ہوگی۔

(10)
سب لوگوں کے ایمان برابر نہیں ہوتے بلکہ کم و بیش ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک شخص کے ایمان میں بھی اس کے اعمال کی وجہ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
جنھیں قرآن نے روک دیا وہ نبی پہ ایمان نہ لانے والے اور شرک اکبر کے مرتکب اعتقادی اور منافق ہے۔
جن پہ جنت حرام ہے۔
ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4312]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 44
ایمان کی کمی اور زیادتی کے بیان میں
«. . . عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ "، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ أَبَانُ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِيمَانٍ مَكَانَ مِنْ خَيْرٍ . . . .»
. . . قتادہ نے انس کے واسطے سے نقل کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے «لا إله إلا الله» کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی (ایمان) ہے تو وہ (ایک نہ ایک دن) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص (بھی) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ (بھی) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے «خير» کی جگہ «ايمان» کا لفظ نقل کیا ہے۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/بَابُ زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ:: 44]
تشریح:
پہلی روایت میں لفظ «خير» سے بھی ایمان ہی مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 44]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 44
44. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک جَو کے برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر بھلائی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے ضرور نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ بھی دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ حضرت امام ابو عبداللہ بخاری ؓ فرماتے ہیں: ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ خير کی جگہ ايمان کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:44]
حدیث حاشیہ:
پہلی روایت میں لفظ خیر سے بھی ایمان ہی مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 44]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1238
1238- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شفاعت کا تذکرہ کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت کی کنڈی پکڑا کر اسے کھٹکھٹاؤں گا۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1238]
فائدہ:
اس حدیث سے جنت کے دروازے کا حلقہ ثابت ہوتا ہے، اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روز قیامت سفارش کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1236]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 478
حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے "لا إله إلا الله" کہا، اور اس کے دل میں جَو کے دانہ کے برابر خیر ہوگی اس کو دوزخ سے نکالا جائے گا، پھر آگ سےاس کو نکالا جائے گا، جس نے "لا إله إلا الله" کہا، اور اس کے دل میں گندم کے دانہ کے برابر خیر ہو گی، پھر آگ سے وہ نکالا جائے گا، جس نے "لا إله إلا الله" کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہوگی۔ ابنِ منہال... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:478]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
ذَرّةٌ:
ذال پر زبر ہے،
اور (راء)
پر شد ہے۔
معنی ہے،
سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والا ذرہ یا چھوٹی چیونٹی اگر ذال پر پیش ہو اور (راء)
مخفف ہو،
جیسا کہ شعبہ کی روایت ہے،
تو معنی ہو گا،
چنا،
جو،
جوار،
باجرہ کی طرح ایک چھوٹا سا دانہ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 478]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:44
44. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک جَو کے برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر بھلائی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے ضرور نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ بھی دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ حضرت امام ابو عبداللہ بخاری ؓ فرماتے ہیں: ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ خير کی جگہ ايمان کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:44]
حدیث حاشیہ:

عنوان، ایمان کی کمی بیشی کے متعلق تھا لیکن حدیث میں خیر کی کمی بیشی کا ثبوت ہے اور یہ ایک عمل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کمی بیشی نفس ایمان کی نہیں بلکہ شرائع واحکام کی ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے آخر میں ایک متابعت سے ثابت فرمایا کہ خیر سے مراد ایمان ہے، گویا متابعت کا ایک فائدہ تعیین مراد ہے۔
اس کے دو فائدے اور بھی ہیں:
ایک یہ کہ قتادہ مدلس ہیں۔
اگرسماع کی تصریح نہ ہو تو اس کی روایت قبول نہیں ہوتی۔
امام صاحب نے متابعت سے تحدیث (حَدَّثَنَا)
کی تصریح کردی۔
گویا دوسرا فائدہ تصریح سماع کا ہوا۔
اورایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ابان اورہشام اگرچہ دونوں ثقہ ہیں لیکن ہشام کا درجہ، ثقاہت کے لحاظ سے ابان سے بہت اونچا ہے اس لیے امام صاحب نے ہشام کی روایت کو اصل قراردیا اور اس کی خامی کو متابعت ذکر کر کے دور کر دیا، یعنی تیسرا فائدہ تقویت روایت ہے۔

سورج کی شعاعوں میں سوئی کی نوک کے برابر بے شمار ذرے اڑتے نظر آتے ہیں، چارذرے ایک رائی کے دانے کے برابر ہوتے ہیں اور سو ذرات ایک جو کے دانے کے برابر وزن رکھتے ہیں۔
حدیث کا یہ اسلوب ایمان کی کمی بیشی پر روز روشن کی طرح واضح ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض بدعمل موحدین جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اپنی سزا پانے کے بعد انھیں وہاں سے نکال لیا جائے گا۔
اس میں خوارج کے مسلک کے برعکس اس بات کا اثبات ہے کہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب کافر نہیں ہوتا اور نہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہی میں رہے گا۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ ایمان کے لیے صرف معرفت ناکافی ہے بلکہ زبان سے اقرار اوروہ بھی دلی یقین کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
(شرح الکرماني: 176/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 44]

Sunan Ibn Majah Hadith 4312 in Urdu