پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب : ما جاء في الوضوء من لحوم الإبل
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اونٹ کے گوشت سے وضو کر لیا کرو، اور بکری کے گوشت سے وضو نہ کرو، اور اونٹنی کے دودھ سے وضو کیا کرو، اور بکری کے دودھ سے وضو نہ کرو، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو، اور اونٹ کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 497]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: ”اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کرو، بکریوں کا گوشت کھا کر وضو نہ کرو، اور اونٹنیوں کا دودھ پی کر وضو کرو، بکریوں کا دودھ پی کر وضو نہ کرو اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو، اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7416، ومصباح الزجاجة: 205) (ضعیف)» (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز خالد بن یزید مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، اور حدیث کا دوسرا ٹکڑا «وتوضئوا من ألبان الإبل ولا توضئوا من ألبان الغنم» ضعیف اور منکر ہے، بقیہ حدیث یعنی پہلا اور آخری ٹکڑا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، یعنی اونٹ کے گوشت سے وضو اور بکری کے گوشت سے عدم وضو، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 177)
وضاحت: ۱؎: آگ پر پکی دیگر چیزوں کے استعمال سے وضو ضروری نہیں ہے، لیکن اونٹ کے گوشت کا معاملہ جدا ہے، اسی لئے شریعت نے اس کو الگ ذکر کیا ہے، اب ہماری سمجھ میں اس کی مصلحت آئے یا نہ آئے ہمیں فرماں برداری کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن يزيد بن عمر الفزاري مجهول الحال (تقريب: 1689)
و الحديث السابق (الأصل: 495) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
إسناده ضعيف
خالد بن يزيد بن عمر الفزاري مجهول الحال (تقريب: 1689)
و الحديث السابق (الأصل: 495) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
497
| توضئوا من لحوم الإبل لا توضئوا من لحوم الغنم توضئوا من ألبان الإبل لا توضئوا من ألبان الغنم صلوا في مرابض الغنم لا تصلوا في معاطن الإبل |
Sunan Ibn Majah Hadith 497 in Urdu
محارب بن دثار السدوسي ← عبد الله بن عمر العدوي