🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : اجتناب البدع والجدل
باب: بدعات اور جدال (بے جا بحث و تکرار) سے اجتناب و پرہیز۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ، بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ، بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَةُ، بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 51]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البر والصلة 58 (1993)، (تحفة الأشراف: 868) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی امام ترمذی نے تحسین فرمائی ہے، لیکن اس کی سند میں سلمہ بن وردان منکرالحدیث راوی ہیں، اور متن مقلوب ہے جس کی وضاحت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے، ملاحظہ ہو: سنن ابی داود: 4800)
قال الشيخ الألباني: سنده ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1993)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥سلمة بن وردان الليثي، أبو يعلى
Newسلمة بن وردان الليثي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← سلمة بن وردان الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← محمد بن أبي فديك الديلي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← هارون بن إسحاق الهمداني
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1993
من ترك الكذب وهو باطل بني له في ربض الجنة ومن ترك المراء وهو محق بني له في وسطها ومن حسن خلقه بني له في أعلاها
سنن ابن ماجه
51
من ترك الكذب وهو باطل بني له قصر في ربض الجنة ومن ترك المراء وهو محق بني له في وسطها ومن حسن خلقة بني له في أعلاها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 51 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث51
اردو حاشہ:
(1)
کسی بھی دینی یا دنیوی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ (النساء: 128)
 صلح بہتر ہے۔

(2)
جب کوئی شخص اپنی غلطی محسوس کر لے تو اسے چاہیے کہ اس آیت کی تلاوت کرے تاکہ اختلاف ختم ہو جائے۔
یہ عمل اس قدر عظیم ہے کہ اس کی جزا کے طور پر جنت میں ایک محل ملے گا۔

(3)
دنیوی معاملات میں یہ ممکن ہے کہ انسان اپنا جائز حق چھوڑ کر جھگڑا ختم کر دے۔
باہمی اتفاق و اتحاد کے لیے دی گئی یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم عمل ہے جس کا انعام یہ ہے کہ ایسے شخص کو جنت کے درمیان میں ایک عمدہ محل ملے گا۔

(4)
مسلمان کے اخلاق اعلیٰ درجے کے ہونے چاہئیں تاکہ روزمرہ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں، خوش خلقی، برداشت اور نرم خوئی کی صفات سے مزین ہو کر لڑائی جھگڑے کے امکانات ہی ختم کر دیے جائیں۔
معاشرے میں اس قسم کے افراد جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی امن و امان زیادہ ہو گا، اس لیے ایسا شخص مذکورہ بالا دونوں قسم کے افراد سے بلند تر مقام کا حامل ہے اور جنت میں بھی اسے ان سے اعلیٰ تر مقام حاصل ہو گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 51]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1993
تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1993]
اردو حاشہ:
نوٹ:

سندمیں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں،
صحیح الفاظ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس طرح ہیں: (أنا زعیم ببیت في ربض الجنةِ لِمَنْ تَرَکَ المَزَاحَ وَ إِنْ کَانَ مُحِقًّا،
و بیت فِي وَسطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَ إِن کَانَ مضازِحًا،
وَ بَیْتٌ فِي اَعْلَی الْجَنَّۃ لِمَنْ حسن خُلُقه) (أبوداود رقم: 4800) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة: 273)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1993]