علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. . باب : من اغتسل من الجنابة فبقي من جسده لمعة لم يصبها الماء كيف يصنع
باب: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا، اور فجر کی نماز پڑھی پھر جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بدن کے ایک حصہ میں ناخن کے برابر پانی نہیں پہنچا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس پر اپنا گیلا ہاتھ پھیر دیتے تو کافی ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 664]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”میں نے غسل جنابت کیا اور فجر کی نماز پڑھی۔ دن چڑھا تو مجھے ایک ناخن کے برابر جگہ نظر آئی جہاں (غسل کے دوران میں) پانی نہیں پہنچا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس جگہ (گیلا) ہاتھ پھیر دیتا تو کافی ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10105، ومصباح الزجاجة: 252) (ضعیف جدًا)» (سند میں سوید بن سعید صدوق ہیں، اندھے ہونے کے بعد دوسروں سے احادیث کی بہت زیادہ تلقین قبول کرنے لگے، حتی کہ ابن معین نے ان کو حلال الدم قرار دیا، نیز محمد بن عبید اللہ العرزمی ضعیف اور متروک ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن عبيداللّٰه العرزمي: متروك
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن عبيداللّٰه العرزمي: متروك
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
664
| لو كنت مسحت عليه بيدك أجزأك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 664 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث664
اردو حاشہ:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں اس لیے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا جو ان میں بیان ہوا ہے۔
گویا ایسی صورت میں غسل یا وضو کا اعادہ ضروری ہوگا۔
واللہ اعلم۔
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں اس لیے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا جو ان میں بیان ہوا ہے۔
گویا ایسی صورت میں غسل یا وضو کا اعادہ ضروری ہوگا۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 664]
Sunan Ibn Majah Hadith 664 in Urdu
سعد بن معبد القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي