یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : النوم في المسجد
باب: مسجد میں سونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا"، فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، وَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ هَا هُنَا، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ.
قیس بن طخفة (جو اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب چلو“، چنانچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، وہاں ہم نے کھایا پیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ“، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 752]
جناب یعیش بن قیس بن طخفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ اصحابِ صفہ میں سے تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”آؤ چلیں۔“ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف روانہ ہوئے (وہاں جا کر) ہم نے کھایا پیا۔ (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”چاہو تو یہاں سو رہو، چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ۔“ ہم نے عرض کیا: ”ہم تو مسجد میں ہی چلے جائیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 103 (5040)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429، 430، 5/426، 427) (ضعیف)» (حدیث میں اضطراب ہے، نیز سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
وضاحت: ۱؎: اصحاب صفہ وہ لوگ تھے جو مسجد نبوی کے صفہ یعنی سائباں میں رہتے تھے، گھر بار مال و اسباب ان کے پاس کچھ نہ تھا، وہ مسکین تھے، کوئی کھلا دیتا تو کھا لیتے، ان کے حالات کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف مضطرب
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5040
| انطلقوا بنا إلى بيت عائشة ا فانطلقنا فقال يا عائشة أطعمينا فجاءت بحشيشة فأكلنا ثم قال يا عائشة أطعمينا فجاءت بحيسة مثل القطاة فأكلنا ثم قال يا عائشة اسقينا فجاءت بعس من لبن فشربنا ثم قال يا عائشة اسقينا فجاءت بقدح صغير فشربنا ثم قال إن شئتم بتم وإن شئتم ا |
سنن ابن ماجه |
752
| إن شئتم نمتم ها هنا وإن شئتم انطلقتم إلى المسجد |
Sunan Ibn Majah Hadith 752 in Urdu
طهفة بن قيس الغفاري ← طهفة بن قيس الغفاري