علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : الصلاة في أعطان الإبل ومراح الغنم
باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14555، 14559، ومصباح الزجاجة: 288)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 142 (348) مختصراً، سنن الدارمی/الصلاة 112 (1431) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية يزيد بن زريع العيشي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر بكر بن خلف البصري ← يزيد بن زريع العيشي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← بكر بن خلف البصري | ثقة متقن | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
348
| صلوا في مرابض الغنم لا تصلوا في أعطان الإبل |
سنن ابن ماجه |
768
| صلوا في مرابض الغنم لا تصلوا في أعطان الإبل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 768 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث768
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس میں یہ حکمت ہے کہ اگر کوئی بکری سینگ وغیرہ مارنے کی کوشش کرے تو نمازی اس کو سنبھال سکتا ہے اس سے جان کا خطرہ نہیں۔
لیکن اگر اونٹ شرارت پر آمادہ ہوجائے تو اسے سنبھالنا زیادہ مشکل ہوتا ہےاور اگر اچانک حملہ کردے تو جان کا بھی خطرہ ہے۔
ویسے بيٹھے ہوئے اونٹ کی طرف منہ کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الصلاة، باب الصلاة الي الراحلة والبعير والشجر والرحل، حديث: 507)
فائدہ:
اس میں یہ حکمت ہے کہ اگر کوئی بکری سینگ وغیرہ مارنے کی کوشش کرے تو نمازی اس کو سنبھال سکتا ہے اس سے جان کا خطرہ نہیں۔
لیکن اگر اونٹ شرارت پر آمادہ ہوجائے تو اسے سنبھالنا زیادہ مشکل ہوتا ہےاور اگر اچانک حملہ کردے تو جان کا بھی خطرہ ہے۔
ویسے بيٹھے ہوئے اونٹ کی طرف منہ کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الصلاة، باب الصلاة الي الراحلة والبعير والشجر والرحل، حديث: 507)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 768]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 348
بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
اردو حاشہ:
1؎: ((صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ)) میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور((وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ)) میں نہی تحریمی ہے،
یعنی حرام ہے۔
1؎: ((صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ)) میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور((وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ)) میں نہی تحریمی ہے،
یعنی حرام ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 348]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، سنن ترمذی 348
جانوروں کے باڑوں میں نماز پڑھنا
شریعت نے بھیڑ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے جبکہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا حرام قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صلوا فى مرابض الغنم ولا تصلوا فى أعطان الابل» ”بھیٹر بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لو لیکن اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔“
[صحيح: صحيح ترمذي 285، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الصلاة فى مرابض الغنم ......، ابن ماجة 768، أحمد 451/2، ابن خزيمة 795، بيهقي 449/2، ترمذي 348]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی میں حدیث مروی ہے۔ [صحيح: صحيح أبو داود 169، أبو داود 184، أحمد 288/4]
(احمدؒ، ابن حزمؒ، شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(جمہور) نجاست نہ ہو تو نھی کو کراہت پر اور نجاست موجود ہوتو نھی کو تحریم پرمحمول کیا جائے گا۔ [نيل الأوطار 635/1-636]
(راجح) پہلا موقف حدیث کے زیادہ قریب ہے۔ «والله اعلم»
شریعت نے بھیڑ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے جبکہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا حرام قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صلوا فى مرابض الغنم ولا تصلوا فى أعطان الابل» ”بھیٹر بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لو لیکن اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔“
[صحيح: صحيح ترمذي 285، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الصلاة فى مرابض الغنم ......، ابن ماجة 768، أحمد 451/2، ابن خزيمة 795، بيهقي 449/2، ترمذي 348]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی میں حدیث مروی ہے۔ [صحيح: صحيح أبو داود 169، أبو داود 184، أحمد 288/4]
(احمدؒ، ابن حزمؒ، شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(جمہور) نجاست نہ ہو تو نھی کو کراہت پر اور نجاست موجود ہوتو نھی کو تحریم پرمحمول کیا جائے گا۔ [نيل الأوطار 635/1-636]
(راجح) پہلا موقف حدیث کے زیادہ قریب ہے۔ «والله اعلم»
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 362]
Sunan Ibn Majah Hadith 768 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي