یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
147. باب ما جاء في الصلاة في مرابض الغنم وأعطان الإبل
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو“۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 14567)، وانظر مسند احمد (2/451، 491، 508) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «صلوا في مرابض الغنم» میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور «ولا تصلوا في أعطان الإبل» میں نہی تحریمی ہے، یعنی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (768)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر أبو بكر بن عياش الأسدي ← هشام بن حسان الأزدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا يحيى بن آدم الأموي ← أبو بكر بن عياش الأسدي | ثقة حافظ فاضل | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← يحيى بن آدم الأموي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
348
| صلوا في مرابض الغنم لا تصلوا في أعطان الإبل |
سنن ابن ماجه |
768
| صلوا في مرابض الغنم لا تصلوا في أعطان الإبل |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 348 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، سنن ترمذی 348
جانوروں کے باڑوں میں نماز پڑھنا
شریعت نے بھیڑ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے جبکہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا حرام قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صلوا فى مرابض الغنم ولا تصلوا فى أعطان الابل» ”بھیٹر بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لو لیکن اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔“
[صحيح: صحيح ترمذي 285، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الصلاة فى مرابض الغنم ......، ابن ماجة 768، أحمد 451/2، ابن خزيمة 795، بيهقي 449/2، ترمذي 348]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی میں حدیث مروی ہے۔ [صحيح: صحيح أبو داود 169، أبو داود 184، أحمد 288/4]
(احمدؒ، ابن حزمؒ، شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(جمہور) نجاست نہ ہو تو نھی کو کراہت پر اور نجاست موجود ہوتو نھی کو تحریم پرمحمول کیا جائے گا۔ [نيل الأوطار 635/1-636]
(راجح) پہلا موقف حدیث کے زیادہ قریب ہے۔ «والله اعلم»
شریعت نے بھیڑ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے جبکہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا حرام قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صلوا فى مرابض الغنم ولا تصلوا فى أعطان الابل» ”بھیٹر بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لو لیکن اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔“
[صحيح: صحيح ترمذي 285، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الصلاة فى مرابض الغنم ......، ابن ماجة 768، أحمد 451/2، ابن خزيمة 795، بيهقي 449/2، ترمذي 348]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی میں حدیث مروی ہے۔ [صحيح: صحيح أبو داود 169، أبو داود 184، أحمد 288/4]
(احمدؒ، ابن حزمؒ، شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(جمہور) نجاست نہ ہو تو نھی کو کراہت پر اور نجاست موجود ہوتو نھی کو تحریم پرمحمول کیا جائے گا۔ [نيل الأوطار 635/1-636]
(راجح) پہلا موقف حدیث کے زیادہ قریب ہے۔ «والله اعلم»
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 362]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 348
اردو حاشہ:
1؎: ((صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ)) میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور((وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ)) میں نہی تحریمی ہے،
یعنی حرام ہے۔
1؎: ((صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ)) میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور((وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ)) میں نہی تحریمی ہے،
یعنی حرام ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 348]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث768
اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس میں یہ حکمت ہے کہ اگر کوئی بکری سینگ وغیرہ مارنے کی کوشش کرے تو نمازی اس کو سنبھال سکتا ہے اس سے جان کا خطرہ نہیں۔
لیکن اگر اونٹ شرارت پر آمادہ ہوجائے تو اسے سنبھالنا زیادہ مشکل ہوتا ہےاور اگر اچانک حملہ کردے تو جان کا بھی خطرہ ہے۔
ویسے بيٹھے ہوئے اونٹ کی طرف منہ کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الصلاة، باب الصلاة الي الراحلة والبعير والشجر والرحل، حديث: 507)
فائدہ:
اس میں یہ حکمت ہے کہ اگر کوئی بکری سینگ وغیرہ مارنے کی کوشش کرے تو نمازی اس کو سنبھال سکتا ہے اس سے جان کا خطرہ نہیں۔
لیکن اگر اونٹ شرارت پر آمادہ ہوجائے تو اسے سنبھالنا زیادہ مشکل ہوتا ہےاور اگر اچانک حملہ کردے تو جان کا بھی خطرہ ہے۔
ویسے بيٹھے ہوئے اونٹ کی طرف منہ کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الصلاة، باب الصلاة الي الراحلة والبعير والشجر والرحل، حديث: 507)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 768]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 348 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي