🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : المشي إلى الصلاة
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ، وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! میں تجھ سے اس حق ۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 778]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز کے لیے گھر سے نکلا اور یہ دعا پڑھی، اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ مبارک سے اس کی طرف توجہ فرماتا ہے اور ستر ہزار فرشتے اس کے حق میں بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ (دعا یہ ہے): «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا، وَلَا بَطَرًا، وَلَا رِيَاءً، وَلَا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ، وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، مانگنے والوں کے تجھ پر حق کی وجہ سے اور میں (نماز کے لیے) اپنے اس چلنے کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں، میں نہ فخر کرتے ہوئے نکلا ہوں، نہ اتراتے ہوئے، نہ ریاکاری کے لیے، نہ شہرت کے لیے، میں تو تیری ناراضی سے بچنے کے لیے، اور تیری رضا کے حصول کے لیے نکلا ہوں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے پناہ دے دے، اور میرے گناہ معاف فرما دے، تیرے سوا گناہوں کو یقیناً کوئی نہیں بخش سکتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4232، ومصباح الزجاجة: 293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/21) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عطیہ العوفی، فضیل بن مرزوق اور فضل بن موفق سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 24)
وضاحت: ۱؎: اگرچہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی ایسا حق لازم نہیں ہے جس کا کرنا اس کو ضروری ہو کیونکہ وہ ہمارا مالک و مختار ہے جو چاہے سو کرے، اس سے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ پوچھ بھی سکے، پر ہمارے مالک نے اپنی عنایت اور فضل سے بندوں کے حق اپنے ذمے لئے ہیں، جن کو وہ ضرور پورا کرے گا، اس لئے کہ وہ سچا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہے، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔ معتزلہ اپنی گمراہی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر نیک بندوں کو جنت میں لے جانا، اور بروں کو سزا دینا واجب ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا وعدہ کیا ہے، لیکن واجب اس پر کچھ نہیں ہے، نہ کسی کا کوئی زور بھی اس پر چل سکتا ہے، نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے سامنے کوئی ذرا بھی چون وچرا کر سکے، اگر وہ چاہے تو دم بھر میں سب بدکاروں اور کافروں اور منافقوں کو بخش دے، اور ان کو جنت میں لے جائے، اور جتنے نیک اور عابد اور متقی بندے ہیں، ان سب کو جہنم میں ڈال دے، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے، اور اس کو ایسا اختیار ہے، اگرچہ ایسا ظہور میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ نیک بندوں کو میں جنت میں لے جاؤں گا، اور کافروں کو جہنم میں، ایسا ہی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي: ضعيف مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥الفضيل بن مرزوق الأغر، أبو عبد الرحمن
Newالفضيل بن مرزوق الأغر ← عطية بن سعد العوفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن الموفق الثقفي، أبو الجهم
Newالفضل بن الموفق الثقفي ← الفضيل بن مرزوق الأغر
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن سعيد التستري، أبو بكر
Newمحمد بن سعيد التستري ← الفضل بن الموفق الثقفي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
778
اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت
Sunan Ibn Majah Hadith 778 in Urdu