🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : وضع اليدين على الركبتين
باب: رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: رَكَعْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَطَبَّقْتُ، فَضَرَبَ يَدِي وقَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ" أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ".
معصب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے قریب (نماز پڑھتے ہوئے) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا کہ (ہاتھ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 873]
وضاحت: تطبیق کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ملا کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان ہاتھ رکھے جائیں۔ رکوع کا یہ طریقہ منسوخ ہو چکا ہے۔ جو حکم منسوخ ہو چکا ہو، اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے جائیں جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة
Newمصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥الزبير بن عدي الهمداني، أبو عبد الله، أبو عدي
Newالزبير بن عدي الهمداني ← مصعب بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← الزبير بن عدي الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← محمد بن بشر العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1034
ركعت فطبقت فقال أبي إن هذا شيء كنا نفعله ثم ارتفعنا إلى الركب
صحيح مسلم
1197
أمرنا أن نرفع إلى الركب
سنن ابن ماجه
873
أمرنا أن نرفع إلى الركب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 873 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث873
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تطبیق کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کوملا کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان ہاتھ رکھے جایئں۔
رکوع کا یہ طریقہ منسوخ ہوچکا ہے۔

(2)
جو حکم منسوخ ہوچکا ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔

(3)
رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے جایئں۔
جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔
دیکھئے: (جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء انه یجافی یدیه عن جنبیه في الرکوع، حدیث: 260)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 873]