🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : النهي أن يسبق الإمام بالركوع والسجود
باب: امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 960
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ لَا نُبَادِرَ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور (فرماتے) جب امام «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 960]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے تھے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے جلدی نہ کریں۔ (اور فرماتے تھے کہ) جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر ( «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر) کہو اور جب وہ سجدہ کرے تب تم سجدہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12447) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ مقتدی کو ہر ایک رکن امام کے بعد کرنا چاہئے، امام کے ساتھ ساتھ یا امام سے پہلے یا امام کے بعد زیادہ دیر سے کرنا درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن عبيد الطنافسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبيد الطنافسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة يحفظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن عبيد الطنافسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
932
لا تبادروا الإمام إذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين
سنن ابن ماجه
960
لا نبادر الإمام بالركوع والسجود وإذا كبر فكبروا وإذا سجد فاسجدوا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 960 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث960
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نمازشروع کرتے وقت اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتے وقت امام سے پہلے حرکت کرنا سخت منع ہے۔

(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین ایک حالت سے دوسری حالت میں منقتل ہوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر پیچھے رہتے تھے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں جاتے تھے۔
تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر سر مبارک نہ رکھ دیتے۔
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین قومے ہی میں کھڑے رہتے سجدے کے لئے نہ جھکتے تھے۔
دیکھئے:(صحیح البخاري، الأذان، باب متی یسجد من خلف الإمام؟، حدیث 690، وصحیح مسلم، الصلاۃ، باب متابعة الإمام والعمل بعدہ، حدیث: 474)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 960]

Sunan Ibn Majah Hadith 960 in Urdu