🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : من أم قوما وهم له كارهون
باب: لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی: ایک وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں، دوسرے وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے وہ دو بھائی جنہوں نے باہم قطع تعلق کر لیا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5635، ومصباح الزجاجة: 351) (منکر)» (اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، «اخوان متصارمان» کے بجائے «العبدالآبق» کے لفظ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: غایة المرام: 248، ومصباح الزجاجة: 353، بتحقیق الشہری)
قال الشيخ الألباني: ضعيف بهذا اللفظ وحسن بلفظ العبد الآبق مكان أخوان متصارمان
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبيدة بن الأسود: ’’ صدوق ربما دلس ‘‘ (انظر ضعيف سنن الترمذي: 2213) وعنعن
وحديث الترمذي (360 وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥المنهال بن عمرو الأسدي
Newالمنهال بن عمرو الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥القاسم بن الوليد الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن الوليد الهمداني ← المنهال بن عمرو الأسدي
ثقة
👤←👥عبيدة بن الأسود الهمداني
Newعبيدة بن الأسود الهمداني ← القاسم بن الوليد الهمداني
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي
Newيحيى بن عبد الرحمن الأرحبي ← عبيدة بن الأسود الهمداني
صدوق ربما يخطئ
👤←👥محمد بن عمر الصائدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمر الصائدي ← يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
971
ثلاثة لا ترتفع صلاتهم فوق رءوسهم شبرا رجل أم قوما وهم له كارهون امرأة باتت وزوجها عليها ساخط أخوان متصارمان
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 971 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث971
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کا آسمان کی طرف بلند ہونا قبولیت کی علامت ہے۔
اور بلند نہ ہونا عدم قبولیت کو ظاہر کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

(2)
بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
جن کی وجہ سے بعض خاص نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔
جیسے اس حدیث میں مذکور گناہ نماز کے ضائع ہونے کا باعث ہیں۔

(3)
عورت کے لئے ضروری ہے کہ خاوند کوخوش رکھنے میں کوتاہی نہ کرے۔
خصوصاً صنفی تعلقات کا فرض ادا کرنے سے انکار نہ کرے الا یہ ک معقول شرعی عذر ہو۔
اس صورت میں خاوند کو اس کی مجبوری کا احساس کرنا چاہیے۔

(4)
جس طرح عورت کےلئے ضروری ہے کہ مرد کی صنفی خواہش پوری کرے۔
اسی طرح مرد کا بھی فرض ہے کہ عورت کی خواہش کا لحاظ رکھے اور اس کا صنفی حق ادا کرے۔
حدیث میں صرف عورت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ عام طور پر تکلیف یا انکار کا اظہار عورت کی طرف سے ہوتا ہے مرد کیطرف سے نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 971]