السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
223. (باب النهي عن شراء ما تصدق به)
(اپنا صدقہ واپس خریدنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 372
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَاعَهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ وَلا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جہاد کے لیے گھوڑا مہیا کیا تو جس کے پاس تھا اس نے اسے ضائع کر دیا میں نے ارادہ کیا اس سے خرید لوں میرا خیال تھا (چونکہ گھوڑا کمزور ہو گیا ہے) کہ سستا فروخت کر دے گا تو اس سے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایک درہم کا دے پھر بھی مت خرید و اپنے صدقے کو واپس مت لو، صدقہ دے کر واپس لینے والا اُس کتے کی طرح ہے جو الٹی کر کے چاٹ لیتا ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الزکاۃ، باب ہل یشتری صدقتہ، رقم: 1490، صحیح مسلم، الہبات باب کراہۃ شراء الانسان ...... الخ، رقم: 1620»
Sunan Shafi Hadith 372 in Urdu