سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب : نوع آخر
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
حدیث نمبر: 1135
أَخْبَرَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ:" سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» ”تمام فرشتے اور جبرائیل کا رب ہر نقص و عیب سے پاک ہے“ کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1049 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1049
| يقول في ركوعه سبوح قدوس رب الملائكة والروح |
سنن النسائى الصغرى |
1135
| يقول في ركوعه وسجوده سبوح قدوس رب الملائكة والروح |
صحيح مسلم |
1091
| يقول في ركوعه وسجوده سبوح قدوس رب الملائكة والروح |
سنن أبي داود |
872
| يقول في ركوعه وسجوده سبوح قدوس رب الملائكة والروح |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1135 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1135
1135۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے، حدیث نمبر: 1049۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1135]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1049
رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» ”فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے“، پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1049]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» ”فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے“، پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1049]
1049۔ اردو حاشیہ: روح سے کیا مراد ہے؟ کہا جاتا ہے کہ جبریل علیہ السلام یا فرشتوں سے بالا ایک مخلوق جو فرشتوں کو دیکھتی ہے، فرشتے اس کو نہیں دیکھتے یا ارواح انسانیہ۔ لیکن قرآن کریم سے اس کی صراحت ہوتی ہے کہ اس سے مراد جبریل امین ہی ہیں کہ ان کے شرف و مرتبت کی بنا پر بطور خاص فرشتوں کے بعد علیحدہ ذکر کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿نزلَ بِهِ الرُّوحُ الأمِينُ» [الشعراء 193: 26] ”اس (قرآن) کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔“
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1049]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1091
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ کلمات کہتے تھے: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ”نہایت پاک اور مقدس و منزہ ہے پروردگار ملائکہ کا اور روح کا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1091]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
روح سے مراد جبریل علیہ السلام ہے بعض نے کہا یہ کوئی اور بڑا فرشتہ ہے یا مستقل مخلوق ہے،
جس کو فرشتے بھی نہیں دیکھ سکتے۔
فوائد ومسائل:
روح سے مراد جبریل علیہ السلام ہے بعض نے کہا یہ کوئی اور بڑا فرشتہ ہے یا مستقل مخلوق ہے،
جس کو فرشتے بھی نہیں دیکھ سکتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1091]
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق