یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : الكلام في الصلاة
باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1220
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 , فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (شروع میں) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو“ نازل ہوئی تو (اس کے بعد سے) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا (البقرہ: ۲۳۸)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1220]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ابتدائی) دور میں لوگ نماز میں اپنے ساتھی سے ضرورت کی بات کر لیتے تھے حتیٰ کہ یہ آیت اتری: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”تم سب نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو۔“ تو ہمیں (اس قسم کی باتوں سے) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 2 (1200)، تفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن ابی داود/الصلاة 178 (949)، سنن الترمذی/فیہ 181 (405)، تفسیر البقرة (2986)، (تحفة الأشراف: 3661)، مسند احمد 4/368 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1220
| الرجل يكلم صاحبه في الصلاة بالحاجة على عهد رسول الله حتى نزلت هذه الآية حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين فأمرنا بالسكوت |
صحيح البخاري |
1200
| كنا لنتكلم في الصلاة على عهد النبي يكلم أحدنا صاحبه بحاجته حتى نزلت حافظوا على الصلوات فأمرنا بالسكوت |
صحيح مسلم |
1203
| كنا نتكلم في الصلاة يكلم الرجل صاحبه وهو إلى جنبه في الصلاة حتى نزلت وقوموا لله قانتين فأمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام |
جامع الترمذي |
405
| حتى نزلت وقوموا لله قانتين |
جامع الترمذي |
2986
| كنا نتكلم على عهد رسول الله في الصلاة فنزلت وقوموا لله قانتين |
سنن أبي داود |
949
| أمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام |
بلوغ المرام |
173
| يكلم احدنا صاحبه بحاجته حتى نزلت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1220 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1220
1220۔ اردو حاشیہ:
➊ ”ضرورت کی بات“ مثلاً: سلام کا جواب، چھینک پر دعا، نماز سے متعلقہ وضاحت وغیرہ، نہ کہ گھریلو باتیں یا کاروباری باتیں۔
➋ ”افضل نماز“ حدیث: 473 میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس کے متعلق اور اقوال بھی ہیں مگر راجح قول یہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 6/157-162، حدیث: 473]
➌ ”خاموش رہنے کا حکم“ یعنی اپنے ساتھی سے باتیں کرنے سے، نہ کہ مطلقاً کہ اذکار و اور ادیا قرأت فاتحہ بھی ممنوع ہو جائیں۔ ایسی تو کوئی نماز ہی نہیں جس میں کچھ نہ پڑھا جائے اور مکمل خاموشی ہو۔ ہاں! جماعت کی صورت میں جہر سے روکا گیا ہے۔
➍ شریعت میں نسخ ثابت ہے۔
➎ کلام کسی بھی قسم کا ہو اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
➊ ”ضرورت کی بات“ مثلاً: سلام کا جواب، چھینک پر دعا، نماز سے متعلقہ وضاحت وغیرہ، نہ کہ گھریلو باتیں یا کاروباری باتیں۔
➋ ”افضل نماز“ حدیث: 473 میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس کے متعلق اور اقوال بھی ہیں مگر راجح قول یہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 6/157-162، حدیث: 473]
➌ ”خاموش رہنے کا حکم“ یعنی اپنے ساتھی سے باتیں کرنے سے، نہ کہ مطلقاً کہ اذکار و اور ادیا قرأت فاتحہ بھی ممنوع ہو جائیں۔ ایسی تو کوئی نماز ہی نہیں جس میں کچھ نہ پڑھا جائے اور مکمل خاموشی ہو۔ ہاں! جماعت کی صورت میں جہر سے روکا گیا ہے۔
➍ شریعت میں نسخ ثابت ہے۔
➎ کلام کسی بھی قسم کا ہو اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1220]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 949
نماز میں بات چیت منع ہے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو“ (سورۃ البقرہ: ۲۳۸) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 949]
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو“ (سورۃ البقرہ: ۲۳۸) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 949]
949۔ اردو حاشیہ:
نماز میں گفتگو حرام ہے۔ الا یہ کہ خطا اور نسیان سے کوئی لفظ زبان سے نکل جائے تو معاف ہے۔
نماز میں گفتگو حرام ہے۔ الا یہ کہ خطا اور نسیان سے کوئی لفظ زبان سے نکل جائے تو معاف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 949]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 405
نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 405]
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 405]
اردو حاشہ:
1؎:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے،
بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ ”بشرطیکہ تھوڑی ہو“ ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔
1؎:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے،
بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ ”بشرطیکہ تھوڑی ہو“ ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 405]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1200
1200. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دوران نماز میں ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے تھے اور اپنی ضرورت و حاجت کو بھی ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ﴾ ”تمام نمازوں (بالخصوص درمیانی نماز) کی حفاظت کرو۔“ اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا (اور دوان نماز میں گفتگو کرنے سے بھی ہمیں منع کر دیا گیا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1200]
حدیث حاشیہ:
آیت کا ترجمہ یہ ہے:
”نمازون کا خیال رکھو اوربیچ والی نماز کا اور اللہ کے سامنے ادب سے چپکے کھڑے رہو۔
“ (سورۃ بقرة)
درمیانی نماز سے عصر کی نماز مراد ہے۔
آیت سے ظاہر ہوا کہ نماز میں کوئی بھی دنیاوی بات کرنا قطعا منع ہے۔
آیت کا ترجمہ یہ ہے:
”نمازون کا خیال رکھو اوربیچ والی نماز کا اور اللہ کے سامنے ادب سے چپکے کھڑے رہو۔
“ (سورۃ بقرة)
درمیانی نماز سے عصر کی نماز مراد ہے۔
آیت سے ظاہر ہوا کہ نماز میں کوئی بھی دنیاوی بات کرنا قطعا منع ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1200]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1200
1200. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دوران نماز میں ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے تھے اور اپنی ضرورت و حاجت کو بھی ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ﴾ ”تمام نمازوں (بالخصوص درمیانی نماز) کی حفاظت کرو۔“ اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا (اور دوان نماز میں گفتگو کرنے سے بھی ہمیں منع کر دیا گیا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1200]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز گفتگو کرنے کی ممانعت مدینہ طیبہ میں ہوئی کیونکہ حضرت زید بن ارقم ؓ انصاری ہیں اور وہ مدینہ منورہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
اس حدیث میں جس آیت کا حوالہ ہے وہ بھی مدنی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی مدینہ منورہ ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور سلام عرض کیا تھا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔
ان سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نماز میں اللہ کا ذکر ہونا چاہیے، اس لیے اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔
“ اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوران نماز میں گفتگو کرنے کی حرمت اس آیت کریمہ سے ہوئی جو سورۂ بقرہ میں ہے۔
(فتح الباري: 97/3) (2)
بھول کر یا عدم علم کی بنا پر دوران نماز میں گفتگو کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا کیونکہ حدیث میں ہے:
”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی یا بھول کر کیے ہوئے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، الطلاق، حدیث: 2043)
نیز حضرت معاویہ بن حکم ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی کو دوران نماز میں چھینک آئی تو میں نے نماز ہی میں يرحمك الله کہہ دیا۔
اس پر لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔
میں نے کہا:
ہائے! میری ماں مجھے گم پائے، کیا بات ہے؟ تم مجھے غصے سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے جس سے میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی ایسا معلم نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ سے بہتر ہو، اللہ کی قسم! آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ کرخت لہجہ ہی اختیار کیا بلکہ آپ نے نرمی سے فرمایا:
”نماز میں انسانی گفتگو کی گنجائش نہیں بلکہ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہونی چاہیے۔
“ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1199(537)
اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہالت کی وجہ سے اگر دوران نماز میں گفتگو ہو جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے لیکن آپ نے اسے صرف اس حکم سے آگاہ کرنے پر اکتفا کیا۔
واللہ أعلم۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز گفتگو کرنے کی ممانعت مدینہ طیبہ میں ہوئی کیونکہ حضرت زید بن ارقم ؓ انصاری ہیں اور وہ مدینہ منورہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
اس حدیث میں جس آیت کا حوالہ ہے وہ بھی مدنی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی مدینہ منورہ ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور سلام عرض کیا تھا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔
ان سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نماز میں اللہ کا ذکر ہونا چاہیے، اس لیے اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔
“ اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوران نماز میں گفتگو کرنے کی حرمت اس آیت کریمہ سے ہوئی جو سورۂ بقرہ میں ہے۔
(فتح الباري: 97/3) (2)
بھول کر یا عدم علم کی بنا پر دوران نماز میں گفتگو کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا کیونکہ حدیث میں ہے:
”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی یا بھول کر کیے ہوئے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، الطلاق، حدیث: 2043)
نیز حضرت معاویہ بن حکم ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی کو دوران نماز میں چھینک آئی تو میں نے نماز ہی میں يرحمك الله کہہ دیا۔
اس پر لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔
میں نے کہا:
ہائے! میری ماں مجھے گم پائے، کیا بات ہے؟ تم مجھے غصے سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے جس سے میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی ایسا معلم نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ سے بہتر ہو، اللہ کی قسم! آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ کرخت لہجہ ہی اختیار کیا بلکہ آپ نے نرمی سے فرمایا:
”نماز میں انسانی گفتگو کی گنجائش نہیں بلکہ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہونی چاہیے۔
“ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1199(537)
اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہالت کی وجہ سے اگر دوران نماز میں گفتگو ہو جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے لیکن آپ نے اسے صرف اس حکم سے آگاہ کرنے پر اکتفا کیا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1200]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله،سنن ابوداود 949
باتیں کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے
➊ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «إن كنا لنتكلم فى الصلاة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”ہم عہد رسالت میں دوران نماز ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے تھے۔“ اور اپنی ضرورت و حاجت ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے حتی کہ آیت: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» نازل ہوئی تو «فأمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام» ”ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور دوران نماز گفتگو سے منع کر دیا گیا۔“
[بخاري: 1200، كتاب الجمعة: باب ما ينهى عنه من الكلام فى الصلاة، مسلم: 539، أبو داود: 949، ترمذي: 405، نسائي: 18/3، احمد: 368/4]
➋ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ (حالانکہ پہلے جواب دیا کرتے تھے) اور (پھر بعد میں) فرمایا: «ان فى الصلاة لشغلا» ”بلاشبہ نماز میں مشغولیت ہے۔“
[بخاري: 1199 أيضا، مسلم: 538، مسند شافعي: 351، أحمد: 377/1، أبو داود: 924، نسائي: 19/3، بيهقى: 248/2]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: «إذا كنتم فى الصلاة فاقتنوا ولا تكلموا» ”جب تم نماز میں ہوتے ہو تو فرمانبردار رہو اور کلام نہ کرو۔“ [مسند ابي يعلي: 384/8]
➍ سنن ابی داود میں ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «ان الله قد أحدث ألا تكلموا فى الصلاة» ”بے شک اللہ تعالیٰ نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ دوران نماز کلام مت کرو۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 817، كتاب الصلاة: باب رد السلام فى الصلاة، أبو داود: 924، نسائي: 19/3]
یہ تمام دلائل دوران نماز کلام کی حرمت کا واضح ثبوت ہیں اور اصول میں یہ بات مسلم ہے کہ «النهي يقتضى فساد المنهي عنه»
”ممانعت منھی عنہ (جس کام سے روکا گیا ہے) کے فاسد ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔“ بالخصوص عبادات میں یہ قاعدہ متفق علیہ ہے۔ [إرشاد الفحول: 370/2، الإحكام للآمدى: 269/3]
(ابن حجرؒ، شوکانیؒ) اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے دوران نماز جان بوجھ کر کلام کیا اور وہ اصلاح نماز کا ارادہ نہیں رکھتا تو بلاشبہ اس کی نماز فاسد ہے۔ [فتح الباري: 90/3، نيل الأوطار: 158/2]
(علامہ عینیؒ، ابن منذرؒ) اس کے قائل ہیں۔ [عمدة القارى: 298/6 - 299، الأوسط لابن المنذر: 234/3]
❀ علماء نے بھول کر یا جہالت کی وجہ سے نماز میں کلام کے حکم میں اختلاف کیا ہے۔
(ابو حنیفہؒ) کلام جان بوجھ کر ہو، بھول کر ہو یا جہالت کی بنا پر ہو نماز باطل کر دیتا ہے۔
امام ثوریؒ، امام ابن مبارکؒ، امام حماد بن ابی سلیمانؒ اور امام نخعیؒ وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ، مالکؒ) بھول کر یا جہالت کی بنا پر کلام سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
امام ابن منذرؒ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، امام عطاءؒ، امام حسنؒ اور امام قتادہؒ وغیرہ سے بھی یہی مذہب نقل کیا ہے۔
[الأوسط لابن المنذر: 236/3، نيل الأوطار: 158/2، شرح مسلم للنووي: 27/3، الأم: 236/1، شرح المهذب: 169/4، المبسوط: 170/1، الهداية: 61/1، سبل السلام: 319/1، المغنى: 444/2]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے۔
(ابن حزمؒ) بھول کر یا جہالت سے کیا ہوا کلام محض سجدہ سہو لازم کر دیتا ہے جبکہ نماز مکمل ہو جاتی ہے۔ [المحلى بالآثار: 314/2]
(شوکانیؒ) بھول کر کیا ہوا کلام اور جو بھولنے کے ہی حکم میں ہو، نماز باطل نہیں کرتا۔ [السيل الجرار: 234/1]
مزید اس موقف کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ذوالیدین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو رکعتیں پڑھا دیں پھر ذوالیدین کے یاد کروانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے استفسار کیا کہ «أصدق ذو اليدين؟» ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ دو رکعتیں ادا کر لیں اور آخر میں سہو کے سجدے کر لیے۔
[بخارى: 1214، كتاب الأذان: باب هل يأخذ الإمام إذا شك بقول الناس، مسلم: 573، موطا: 93/1، ترمذي: 399، أبو داود: 1008، ابن ماجة: 1214]
ثابت ہوا کہ بھول کر کلام کر لینے سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت دوبارہ پڑھتے۔
➋ حدیث نبوی ہے کہ «ان الله تجاوز عن أمتى الخطأ والنسيان ......» ”اللہ تعالی نے میری امت سے خطا یا بھول کر کیے ہوئے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1662، كتاب الطلاق: باب طلاق المكره والناسي، إرواء الغليل: 82، ابن ماجة: 2043]
➌ حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے (نماز میں ہی) کہہ دیا: «يرحمك الله» اس پر لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا ہائے! میری ماں مجھے گم پائے کیا بات ہے؟ تم مجھے (غصے سے) کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارنا شروع کر دیا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (مجھے غصہ تو آیا) لیکن میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں میں نے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور نہ بعد میں کسی ایسے معلم کو دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہو، اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے ڈانٹا نہ مارا اور نہ ہی سخت و کرخت گفتگو کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
«إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيئ من كلام الناس إنما هو التسبيح والتكبير و قراءة القرآن» ”بلاشبہ نماز میں انسانی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔ نماز میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہونی چاہیے۔“
[مسلم: 537، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب تحريم الكلام فى الصلاة ......، أبو داود: 931، نسائي: 14/3، دارمي: 353/1، بيهقي: 249/2]
اس حدیث سے بھی واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہالت کی وجہ سے نماز میں اگر گفتگو ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اسے اس حکم سے آگاہ کرنے پر ہی اکتفاء کیا۔
❀ اصلاح نماز کے لیے کیا ہوا کلام آئمہ اربعہ کے نزدیک نماز باطل کر دیتا ہے البتہ امام اوزاعیؒ اور بعض مالکیہ نے اسے جائز کہا ہے۔ [تحفة الأحوذي: 455/2، عمدة القاري: 298/6]
➊ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «إن كنا لنتكلم فى الصلاة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”ہم عہد رسالت میں دوران نماز ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے تھے۔“ اور اپنی ضرورت و حاجت ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے حتی کہ آیت: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» نازل ہوئی تو «فأمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام» ”ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور دوران نماز گفتگو سے منع کر دیا گیا۔“
[بخاري: 1200، كتاب الجمعة: باب ما ينهى عنه من الكلام فى الصلاة، مسلم: 539، أبو داود: 949، ترمذي: 405، نسائي: 18/3، احمد: 368/4]
➋ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ (حالانکہ پہلے جواب دیا کرتے تھے) اور (پھر بعد میں) فرمایا: «ان فى الصلاة لشغلا» ”بلاشبہ نماز میں مشغولیت ہے۔“
[بخاري: 1199 أيضا، مسلم: 538، مسند شافعي: 351، أحمد: 377/1، أبو داود: 924، نسائي: 19/3، بيهقى: 248/2]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: «إذا كنتم فى الصلاة فاقتنوا ولا تكلموا» ”جب تم نماز میں ہوتے ہو تو فرمانبردار رہو اور کلام نہ کرو۔“ [مسند ابي يعلي: 384/8]
➍ سنن ابی داود میں ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «ان الله قد أحدث ألا تكلموا فى الصلاة» ”بے شک اللہ تعالیٰ نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ دوران نماز کلام مت کرو۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 817، كتاب الصلاة: باب رد السلام فى الصلاة، أبو داود: 924، نسائي: 19/3]
یہ تمام دلائل دوران نماز کلام کی حرمت کا واضح ثبوت ہیں اور اصول میں یہ بات مسلم ہے کہ «النهي يقتضى فساد المنهي عنه»
”ممانعت منھی عنہ (جس کام سے روکا گیا ہے) کے فاسد ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔“ بالخصوص عبادات میں یہ قاعدہ متفق علیہ ہے۔ [إرشاد الفحول: 370/2، الإحكام للآمدى: 269/3]
(ابن حجرؒ، شوکانیؒ) اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے دوران نماز جان بوجھ کر کلام کیا اور وہ اصلاح نماز کا ارادہ نہیں رکھتا تو بلاشبہ اس کی نماز فاسد ہے۔ [فتح الباري: 90/3، نيل الأوطار: 158/2]
(علامہ عینیؒ، ابن منذرؒ) اس کے قائل ہیں۔ [عمدة القارى: 298/6 - 299، الأوسط لابن المنذر: 234/3]
❀ علماء نے بھول کر یا جہالت کی وجہ سے نماز میں کلام کے حکم میں اختلاف کیا ہے۔
(ابو حنیفہؒ) کلام جان بوجھ کر ہو، بھول کر ہو یا جہالت کی بنا پر ہو نماز باطل کر دیتا ہے۔
امام ثوریؒ، امام ابن مبارکؒ، امام حماد بن ابی سلیمانؒ اور امام نخعیؒ وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ، مالکؒ) بھول کر یا جہالت کی بنا پر کلام سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
امام ابن منذرؒ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، امام عطاءؒ، امام حسنؒ اور امام قتادہؒ وغیرہ سے بھی یہی مذہب نقل کیا ہے۔
[الأوسط لابن المنذر: 236/3، نيل الأوطار: 158/2، شرح مسلم للنووي: 27/3، الأم: 236/1، شرح المهذب: 169/4، المبسوط: 170/1، الهداية: 61/1، سبل السلام: 319/1، المغنى: 444/2]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے۔
(ابن حزمؒ) بھول کر یا جہالت سے کیا ہوا کلام محض سجدہ سہو لازم کر دیتا ہے جبکہ نماز مکمل ہو جاتی ہے۔ [المحلى بالآثار: 314/2]
(شوکانیؒ) بھول کر کیا ہوا کلام اور جو بھولنے کے ہی حکم میں ہو، نماز باطل نہیں کرتا۔ [السيل الجرار: 234/1]
مزید اس موقف کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ذوالیدین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو رکعتیں پڑھا دیں پھر ذوالیدین کے یاد کروانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے استفسار کیا کہ «أصدق ذو اليدين؟» ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ دو رکعتیں ادا کر لیں اور آخر میں سہو کے سجدے کر لیے۔
[بخارى: 1214، كتاب الأذان: باب هل يأخذ الإمام إذا شك بقول الناس، مسلم: 573، موطا: 93/1، ترمذي: 399، أبو داود: 1008، ابن ماجة: 1214]
ثابت ہوا کہ بھول کر کلام کر لینے سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت دوبارہ پڑھتے۔
➋ حدیث نبوی ہے کہ «ان الله تجاوز عن أمتى الخطأ والنسيان ......» ”اللہ تعالی نے میری امت سے خطا یا بھول کر کیے ہوئے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1662، كتاب الطلاق: باب طلاق المكره والناسي، إرواء الغليل: 82، ابن ماجة: 2043]
➌ حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے (نماز میں ہی) کہہ دیا: «يرحمك الله» اس پر لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا ہائے! میری ماں مجھے گم پائے کیا بات ہے؟ تم مجھے (غصے سے) کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارنا شروع کر دیا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (مجھے غصہ تو آیا) لیکن میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں میں نے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور نہ بعد میں کسی ایسے معلم کو دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہو، اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے ڈانٹا نہ مارا اور نہ ہی سخت و کرخت گفتگو کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
«إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيئ من كلام الناس إنما هو التسبيح والتكبير و قراءة القرآن» ”بلاشبہ نماز میں انسانی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔ نماز میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہونی چاہیے۔“
[مسلم: 537، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب تحريم الكلام فى الصلاة ......، أبو داود: 931، نسائي: 14/3، دارمي: 353/1، بيهقي: 249/2]
اس حدیث سے بھی واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہالت کی وجہ سے نماز میں اگر گفتگو ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اسے اس حکم سے آگاہ کرنے پر ہی اکتفاء کیا۔
❀ اصلاح نماز کے لیے کیا ہوا کلام آئمہ اربعہ کے نزدیک نماز باطل کر دیتا ہے البتہ امام اوزاعیؒ اور بعض مالکیہ نے اسے جائز کہا ہے۔ [تحفة الأحوذي: 455/2، عمدة القاري: 298/6]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 432]
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 173
نماز میں ہر قسم کی گفتگو اور بات چیت ممنوع ہے
”. . . سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں دوران نماز ہم ایک دوسرے سے بات چیت کر لیا کرتے اور اپنی ضرورت و حاجت ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے تاآنکہ «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» آیت نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور نماز میں گفتگو اور کلام کرنے سے منع کر دیا گیا . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 173]
”. . . سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں دوران نماز ہم ایک دوسرے سے بات چیت کر لیا کرتے اور اپنی ضرورت و حاجت ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے تاآنکہ «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» آیت نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور نماز میں گفتگو اور کلام کرنے سے منع کر دیا گیا . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 173]
� لغوی تشریح:
«إِنْ كُنَّا» یہ «إِنْ» مخففہ من المثقلہ ہے، یعنی «إِنَّ» سے «إِنْ» بنایا گیا ہے۔ اور اس کا اسم محذوف ہے، یعنی «إِنَّا» یا «إِنَّهُ» ۔ اور «كُنَّا» اس کی خبر ہے۔
«وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰي» ”واؤ“ اس جگہ تخصیص کے لیے ہے، یعنی خاص طور پر صلاۃ وسطی کی حفاظت کرو۔ اور صحیح ترین قول کے مطابق اس سے نماز عصر مراد ہے۔
«قَانِتِينَ» ڈرتے، سہمے اور خاموش رہتے ہویے۔ قنوت کے متعدد معانی ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے سکوت کے معنی لیے ہیں۔ انہوں نے یہ معنی قراین کی بنا پر اخذ کیے ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کی روشنی میں۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں ہر قسم کی گفتگو اور بات چیت ممنوع ہے۔
➋ آغاز اسلام میں کلام کی اجازت تھی جسے بعد میں ممنوع قرار دے دیا گیا۔
راویٔ حدیث:
(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ) انصار کے قبیلۂ خزرج میں سے ہیں، اس لیے انصاری خزرجی کہلائے۔ ان کی کنیت ابوعمرو ہے۔ پہلی مرتبہ غزوہ خندق میں شامل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سترہ غزوات میں شریک ہوئے۔ معرکہ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرف داروں میں سے تھے بلکہ ان کے مخصوص اصحاب میں شامل تھے۔ کوفہ میں سکونت اختیار کی اور 66 ہجری میں فوت ہوئے۔
«إِنْ كُنَّا» یہ «إِنْ» مخففہ من المثقلہ ہے، یعنی «إِنَّ» سے «إِنْ» بنایا گیا ہے۔ اور اس کا اسم محذوف ہے، یعنی «إِنَّا» یا «إِنَّهُ» ۔ اور «كُنَّا» اس کی خبر ہے۔
«وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰي» ”واؤ“ اس جگہ تخصیص کے لیے ہے، یعنی خاص طور پر صلاۃ وسطی کی حفاظت کرو۔ اور صحیح ترین قول کے مطابق اس سے نماز عصر مراد ہے۔
«قَانِتِينَ» ڈرتے، سہمے اور خاموش رہتے ہویے۔ قنوت کے متعدد معانی ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے سکوت کے معنی لیے ہیں۔ انہوں نے یہ معنی قراین کی بنا پر اخذ کیے ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کی روشنی میں۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں ہر قسم کی گفتگو اور بات چیت ممنوع ہے۔
➋ آغاز اسلام میں کلام کی اجازت تھی جسے بعد میں ممنوع قرار دے دیا گیا۔
راویٔ حدیث:
(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ) انصار کے قبیلۂ خزرج میں سے ہیں، اس لیے انصاری خزرجی کہلائے۔ ان کی کنیت ابوعمرو ہے۔ پہلی مرتبہ غزوہ خندق میں شامل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سترہ غزوات میں شریک ہوئے۔ معرکہ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرف داروں میں سے تھے بلکہ ان کے مخصوص اصحاب میں شامل تھے۔ کوفہ میں سکونت اختیار کی اور 66 ہجری میں فوت ہوئے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 173]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1220 in Urdu
سعد بن إياس الشيباني ← زيد بن أرقم الأنصاري