🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : موضع البصر عند الإشارة وتحريك السبابة
باب: شہادت کی انگلی کو ہلانے اور اشارہ کرنے کے وقت نظر کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ , وَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ , لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ کی نگاہ آپ کے اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 21 (579)، سنن ابی داود/الصلاة 186 (988) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5263)، مسند احمد 4/3 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيبصحابي
👤←👥عامر بن عبد الله القرشي، أبو الحارث
Newعامر بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← عامر بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1276
إذا قعد في التشهد وضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى أشار بالسبابة لا يجاوز بصره إشارته
صحيح مسلم
1307
إذا قعد في الصلاة جعل قدمه اليسرى بين فخذه وساقه وفرش قدمه اليمنى ووضع يده اليسرى على ركبته اليسرى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى أشار بإصبعه
صحيح مسلم
1308
إذا قعد يدعو وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى ويده اليسرى على فخذه اليسرى أشار بإصبعه السبابة ووضع إبهامه على إصبعه الوسطى ويلقم كفه اليسرى ركبته
سنن أبي داود
988
إذا قعد في الصلاة جعل قدمه اليسرى تحت فخذه اليمنى وساقه وفرش قدمه اليمنى ووضع يده اليسرى على ركبته اليسرى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى أشار بأصبعه
سنن أبي داود
990
لا يجاوز بصره إشارته
مسندالحميدي
903
رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو في الصلاة هكذا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1276 کے فوائد و مسائل
 الشيخ حافظ مبشر احمد رباني حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن نسائي 1276  
تشہد میں شہادت کی انگلی کا قبلہ رخ ہونا
------------------
سوال: کیا حالت نماز میں شہادت کی انگلی قبلہ رخ ہونی چاہیے اور نظر کا اس پر مرکوز ہونا کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
جواب: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھ جاتے تو اپنی انگلی سے قبلہ رخ اشارہ کرتے اور اپنی نگاہ اسی پر رکھتے۔ [أبوعوانة، كتاب الصلاة: باب بيان الإشارة 2017، ابن خزيمة، كتاب الصلاة: باب الإشارة بالسبابة 719]
دوسری حدیث میں ہے:
یقیناًً نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد بیٹھ جاتے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ آپ کے اشارے سے تجاوز نہیں کرتی تھی۔ [أبوعوانة، كتاب الصلاة: باب الإشارة بالسبابة: 2018]
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کی صورت میں شہادت کی انگلی اٹھا کر قبلہ رخ اشارہ کرنا اور نظر اس پر رکھنا مسنون ہے۔
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 193]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ ابو يحييٰ نورپوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 990
تشہد میں نظر
«. . . عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ . . .»
. . . اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی . . . [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /باب الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ: 990]
تخریج الحدیث:
[مسند الإمام أحمد: 3/4، سنن أبى داؤد: 990، سنن النسائي: 1276، وسنده حسن]
↰ محمد بن عجلان اگرچہ مدلس ہیں، لیکن مسند احمد میں انہوں نے اپنے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔
نیز اس حدیث کی اصل صحیح مسلم [579] میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ [718] ، امام ابوعوانہ [2018] اور امام ابن حبان [1944] رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 49]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 990
تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث (یعنی پچھلی حدیث) زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 990]
990۔ اردو حاشیہ:
نماز میں بالعموم نظر مقام سجدہ پر ہونی چاہیے مگر تشہد میں انگلی پر ہو۔ تعجب ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک حرکت کو کس دقت نظر سے ملاحظہ کیا اور امت تک پہنچایا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 990]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:903
903-عامر بن عبداللہ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران اس طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام حمیدی نے اپنی چار انگلیا ں بندکیں اور شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ ابوعلی بشربن موسیٰ نامی راوی کہتے ہیں: امام ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ نے ہمارے سامنے یہ کرکے دکھایا تھا۔ امام حمیدی یہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے زیاد بن سعد نے چار روایات ایسی بیان کی ہیں جو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہیں تاہم میں نے ان میں سے صرف یہی روایت ذکر کی ہے۔ باقی روایات میں بھول گیا ہوں۔ زیاد نے مجھ سے کہا تھا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:903]
فائدہ:
اس حدیث میں تشہد میں دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انگلی کو پورے تشہد میں کھڑا رکھا جائے، انگلی کو حرکت دیتے رہنا غلط ہے محدثین نے یحرک کا معنی لکھا ہے کہ انگلی کوحرکت دیتے ہوئے کھڑا رکھنا ہے، اور پھر اس کو کھڑا ہی رکھنا ہے۔ یہ بھی یادر ہے کہ تشہد میں شروع سے لے کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ دونوں طرف کہنے تک انگلی کو کھڑا رکھنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 902]