سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. باب : فرض الوضوء
باب: وضو کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 139]
حضرت ابوملیح رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر طہارت (وضو) کے قبول نہیں فرماتا اور نہ حرام مال سے صدقہ قبول فرماتا ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 31 (59)، سنن ابن ماجہ/فیہ 2 (271)، (تحفة الأشراف 132)، مسند احمد 5/74، 75، سنن الدارمی/الطہارة 21 (713)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 2525، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 2 (224)، عن ابن عمر، مسند احمد 2/20، 39، 51، 57 وغیرہما (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مال غنیمت میں سے چرا کر اگر کوئی صدقہ دے تو وہ صدقہ مقبول نہ ہو گا، یہی حکم ہر مال حرام کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
59
| لا يقبل الله صدقة من غلول لا صلاة بغير طهور |
سنن النسائى الصغرى |
139
| لا يقبل الله صلاة بغير طهور لا صدقة من غلول |
سنن النسائى الصغرى |
2525
| لا يقبل صلاة بغير طهور لا صدقة من غلول |
سنن الدارمي |
709
| لا يقبل الله صلاة بغير طهور لا صدقة من غلول |
المعجم الصغير للطبراني |
190
| لا يقبل الله صلاة بغير طهور لا صدقة من غلول |
سنن ابن ماجه |
271
| لا يقبل الله صلاة إلا بطهور لا يقبل صدقة من غلول |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 139 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 139
139۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز صحیح نہیں ہوتی، فریضہ ادا نہیں ہوتا اور ثواب بھی نہیں ہوتا، لہٰذا وضو اور جنابت کی حالت میں غسل نماز کے لیے شرط ہے۔ وضو کے بغیر نماز کا شرعاً کوئی وجود نہیں۔
➋ غلول خفیہ طریقے سے خیانت کو کہتے ہیں۔ یہاں مطلق خیانت مراد ہے، یعنی حرام طریقے سے حاصل شدہ مال کیونکہ ہر حرام کے حصول میں کسی نہ کسی خیانت کا ارتکاب ہوتا ہے۔
➊ نماز قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز صحیح نہیں ہوتی، فریضہ ادا نہیں ہوتا اور ثواب بھی نہیں ہوتا، لہٰذا وضو اور جنابت کی حالت میں غسل نماز کے لیے شرط ہے۔ وضو کے بغیر نماز کا شرعاً کوئی وجود نہیں۔
➋ غلول خفیہ طریقے سے خیانت کو کہتے ہیں۔ یہاں مطلق خیانت مراد ہے، یعنی حرام طریقے سے حاصل شدہ مال کیونکہ ہر حرام کے حصول میں کسی نہ کسی خیانت کا ارتکاب ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 139]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 59
بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 59]
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 59]
فوائد و مسائل:
➊ خیانت، چوری، ڈاکہ، رشوت اور بھتہ وغیرہ کے مال سے دیا جانے والا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔
➋ نماز کے لیے وضو کرنا فرض ہے بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی، اگر پانی استعمال نہ کیا جا سکتا ہو یا مہیا نہ ہو تو تیمم کرنا فرض ہو گا۔
➊ خیانت، چوری، ڈاکہ، رشوت اور بھتہ وغیرہ کے مال سے دیا جانے والا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔
➋ نماز کے لیے وضو کرنا فرض ہے بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی، اگر پانی استعمال نہ کیا جا سکتا ہو یا مہیا نہ ہو تو تیمم کرنا فرض ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 59]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2525
چوری کے مال میں سے صدقہ دینے کا بیان۔
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2525]
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2525]
اردو حاشہ:
قبولیت کا مطلب ثواب ہے، یعنی حرام مال دے صدقہ کرنے والے کو ثواب نہ ملے گا، البتہ اس سے فقر کو فائدہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ حرام مال اس شخص کے لیے ناجائز ہے جس نے ناحق حاصل کیا، تاہم فقیر چونکہ اس بات سے ناواقف ہے کہ صدقہ کرنے والے نے صدقہ حرام مال سے کیا ہے یا حلال مال سے، اس لیے اس کے لیے اس کا استعمال جائز ہوگا، لیکن علم رکھتے ہوئے کسی حرام کی کمائی سے صدقہ لینا اس کے لیے جائز نہ ہوگا۔
قبولیت کا مطلب ثواب ہے، یعنی حرام مال دے صدقہ کرنے والے کو ثواب نہ ملے گا، البتہ اس سے فقر کو فائدہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ حرام مال اس شخص کے لیے ناجائز ہے جس نے ناحق حاصل کیا، تاہم فقیر چونکہ اس بات سے ناواقف ہے کہ صدقہ کرنے والے نے صدقہ حرام مال سے کیا ہے یا حلال مال سے، اس لیے اس کے لیے اس کا استعمال جائز ہوگا، لیکن علم رکھتے ہوئے کسی حرام کی کمائی سے صدقہ لینا اس کے لیے جائز نہ ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2525]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث271
اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا۔
اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 271]
اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 271]
اردو حاشہ:
(1)
پاکیزگی سے مراد وضو اور غسل ہے۔
نماز کے لیے شرط ہے کہ نمازی حدث اصغر، حدث اکبر اور ظاہری نجاست سے پاک ہو۔
ظاہری نجاست دھونےسےحدث اصغر وضو اور حدث اکبر غسل سے دور ہوتا ہے۔
حدث سے مراد انسان کا ایسی حالت میں ہونا ہے جس سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہوجیسے باوضو شخص کی ہوا خارج ہوجائے یا وہ قضائے حاجت کرلے تو اس کا وضو برقرار نہیں رہتا۔
یہ حالت حدث اصغر کہلاتی ہے۔
اور اگر وہ بیوی سے ہم بستر ہوا یا ویسے ہی احتلام ہوگیا ہے تو یہ حالت حدث اکبر کہلاتی ہے۔
ایسی حالت میں غسل ضروری ہے۔
مزید تفصیل آئندہ ابواب میں آئے گی۔
(2)
قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ثواب نہیں ملتا اور اگر وہ فرض نماز ہے تو انسان کے ذمہ اس کی ادائیگی باقی رہتی ہے۔
(3)
خیانت کے مال کے لیے حدیث میں لفظ غلُوُل استعمال ہوا ہےاس سے مراد مال غنیمت کے مجاہدین میں باقاعدہ تقسیم ہونے سے پہلے اگر کوئی مجاہد اس میں سے کوئی چیز اپنے قبضے میں رکھتا ہے تو یہ مسلمانوں کے اجتماعی مال میں خیانت ہے جو بڑا گناہ ہے۔
اس طریقے سے حاصل ہونے والا مال حرام کمائی میں شامل ہےلہذا اس کو اگر نیکی کے کسی کام میں خرچ کیا جائے تو وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں یعنی جس طرح مال کو خرچ کرتے وقت حلال وحرام مصرف کا خیال رکھنا ضروری ہے اسی طرح مال کے حصول میں بھی حلال و حرام میں تمیز کرنا ضروری ہے۔
(1)
پاکیزگی سے مراد وضو اور غسل ہے۔
نماز کے لیے شرط ہے کہ نمازی حدث اصغر، حدث اکبر اور ظاہری نجاست سے پاک ہو۔
ظاہری نجاست دھونےسےحدث اصغر وضو اور حدث اکبر غسل سے دور ہوتا ہے۔
حدث سے مراد انسان کا ایسی حالت میں ہونا ہے جس سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہوجیسے باوضو شخص کی ہوا خارج ہوجائے یا وہ قضائے حاجت کرلے تو اس کا وضو برقرار نہیں رہتا۔
یہ حالت حدث اصغر کہلاتی ہے۔
اور اگر وہ بیوی سے ہم بستر ہوا یا ویسے ہی احتلام ہوگیا ہے تو یہ حالت حدث اکبر کہلاتی ہے۔
ایسی حالت میں غسل ضروری ہے۔
مزید تفصیل آئندہ ابواب میں آئے گی۔
(2)
قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ثواب نہیں ملتا اور اگر وہ فرض نماز ہے تو انسان کے ذمہ اس کی ادائیگی باقی رہتی ہے۔
(3)
خیانت کے مال کے لیے حدیث میں لفظ غلُوُل استعمال ہوا ہےاس سے مراد مال غنیمت کے مجاہدین میں باقاعدہ تقسیم ہونے سے پہلے اگر کوئی مجاہد اس میں سے کوئی چیز اپنے قبضے میں رکھتا ہے تو یہ مسلمانوں کے اجتماعی مال میں خیانت ہے جو بڑا گناہ ہے۔
اس طریقے سے حاصل ہونے والا مال حرام کمائی میں شامل ہےلہذا اس کو اگر نیکی کے کسی کام میں خرچ کیا جائے تو وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں یعنی جس طرح مال کو خرچ کرتے وقت حلال وحرام مصرف کا خیال رکھنا ضروری ہے اسی طرح مال کے حصول میں بھی حلال و حرام میں تمیز کرنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 271]
Sunan an-Nasa'i Hadith 139 in Urdu
أبو المليح بن أسامة الهذلي ← أسامة بن عمير الهذلي