🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
111. باب : ثواب من أحسن الوضوء ثم صلى ركعتين
باب: اچھی طرح وضو کرنے پھر دو رکعت نماز پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 6 (234) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 65 (169) مطولاً، 162 (906)، (تحفة الأشراف: 9914)، مسند احمد 4/146، 151، 153 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥أبو عثمان، أبو عثمان
Newأبو عثمان ← جبير بن نفير الحضرمي
مقبول
👤←👥أبو إدريس الخولاني، أبو إدريس
Newأبو إدريس الخولاني ← أبو عثمان
ثقة
👤←👥ربيعة بن يزيد الإيادي، أبو شعيب
Newربيعة بن يزيد الإيادي ← أبو إدريس الخولاني
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← ربيعة بن يزيد الإيادي
صدوق له أوهام
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← معاوية بن صالح الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥موسى بن عبد الرحمن الكندي، أبو عيسى
Newموسى بن عبد الرحمن الكندي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
151
من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه وجبت له الجنة
سنن أبي داود
169
ما منكم من أحد يتوضأ فيحسن الوضوء ثم يقوم فيركع ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه إلا قد أوجب
صحيح مسلم
553
ما من مسلم يتوضأ فيحسن وضوءه ثم يقوم فيصلي ركعتين مقبل عليهما بقلبه ووجهه إلا وجبت له الجنة ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ أو فيسبغ الوضوء ثم يقول أشهد أن
سنن أبي داود
906
ما من أحد يتوضأ فيحسن الوضوء ويصلي ركعتين يقبل بقلبه ووجهه عليهما إلا وجبت له الجنة
بلوغ المرام
52
‏‏‏‏ما منكم من احد يتوضا فيسبغ الوضوء
سنن نسائی کی حدیث نمبر 151 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 151
151۔ اردو حاشیہ:
➊ وضو خوب اچھے طریقے سے کرنا چاہیے۔
➋ وضو کے بعد دو رکعتیں پڑھنا مستحب ہے اور انہیں مکمل خشوع و خضوع سے ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ جنت واجب کرنے کا ذریعہ ہیں۔
➌ جو شخص یہ عمل کرتا ہے، اس کے لیے ایمان پر موت آنے کی خوشخبری بھی ہے کیونکہ جنت میں صرف مومن جان ہی داخل ہو گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 151]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 52
اچھی طرح وضو کرنا
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:‏‏‏‏ما منكم من احد يتوضا فيسبغ الوضوء،‏‏‏‏ ثم يقول: اشهد ان لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وحده لا شريك له،‏‏‏‏ واشهد ان محمدا عبده ورسوله،‏‏‏‏ إلا فتحت له ابواب الجنة الثمانية،‏‏‏‏ يدخل من ايها شاء . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے پھر یوں کہے «أشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» کہ میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں اور نیز میں اس بات کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں مگر اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ اب جس دروازے سے چاہے داخل جنت ہو . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 52]
لغوی تشریح:
«اِلَّا فُتِحَتْ» یہ «اِلَّا» استثنا کا ہے، اس سے مقصود کلام اول میں موجود نفی سے استثنا ہے اور یہ اسلوب عبارت کلام میں حصر پیدا کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔
«فُتِحَتْ» صیغہ مجہول ہے اس صورت میں معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز کھولے جائیں گے۔ صیغۂ ماضی سے تعبیر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اس کا وقوع یقینی اور حتمی ہے۔ جس طرح گزرے ہوئے زمانے کا یقین ہوتا ہے، اسی طرح اس کا واقع ہونا بھی یقینی اور لابدی امر ہے۔
«وَزَادَ» یعنی امام ترمذی نے «مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» نقل کرنے کے بعد «اَللّهُمَّ اجْعَلْنِي۔۔۔ إلخ» کے الفاظ مزید نقل کیے ہیں۔
«اَلتَّوَّابُ» میں واؤ مشدد ہے۔ اس کے معنی ہیں: کثرت سے توبہ کرنے والا شخص۔

راویٔ حدیث:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مراد عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی کنیت ابوحفص ہے۔ نادر الوجود شخصیت تھے۔ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ انہوں نے آفاق ارض کو حکم، عدل اور فتوحات سے بھر دیا تھا۔ دور جاہلیت میں قبیلہ قریش کے سفیر تھے۔ 6 نبوت ذی الحجہ کو دار ارقم میں دست نبوت پر بیعت کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ان کے قبول اسلام میں ان کے بہنوئی سعید اور بہن فاطمہ رضی اللہ عنہما کا بڑا کردار ہے۔ سارے غزوات میں شریک رہے۔ ان کے عہد خلافت میں فتوحات کا سیلاب امنڈ آیا تھا۔ عراق، فارس، شام اور مصر وغیرہ کے علاقے اسلامی سلطنت کی حدود میں شامل ہوئے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مجوسی غلام ابولؤلؤ کے قاتلانہ حملے سے یکم محرم، 24 ہجری میں شہادت پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 52]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 906
نماز کے دوران میں وسوسے اور خیالات کی کراہت۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 906]
906۔ اردو حاشیہ:
وضو وہی اچھا ہو سکتا ہے۔ جو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اعضاء کامل دھوئے جائیں۔ پانی کا ضیاع نہ ہو اور شروع میں بسم اللہ اور آخر میں دعا بھی پڑھے۔
➋ دل کے خیالات اور وسوسوں سے بچنے کی ظاہری صورت یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اپنی نظر اور چہرے کو سجدے کی جگہ پر مرکوز رکھے۔ اور معنوی اعتبار سے آیات و اذکار کے معانی و مفاہیم پر غور کرے۔ اور اس طرح عبادت کرے گویا اللہ دیکھ رہا ہے، یا یہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اور سمجھے کہ شائد میری یہ آخری نماز ہے۔ علاوہ ازیں علمائے صالحین کی صحبت اور کتب احادیث میں زہد اور رقاق کے ابواب کا بکثرت مطالعہ انسان کے لئے حسن عبادت کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہ ماثور دعا اپنا معمول بنائے۔ «اللهم اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہترین عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔ [سنن ابودائود حديث 1522]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 906]