پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : ذكر صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1630
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ صَلَاتِهِ , فَقَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى , ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ نَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار؟ ۱؎ آپ نماز پڑھتے تھے، پھر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے، پھر جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر آپ اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے ان سے آپ کی قرآت کی کیفیت بیان کی، تو وہ ایک ایک حرف واضح کر کے بیان کر رہی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1630]
حضرت یعلی بن مملک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کے بارے میں پوچھا (یعنی آپ کلام اللہ کیونکر پڑھتے تھے) اور آپ کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار (یعنی تمہارا پوچھنا بے فائدہ ہے، کیونکہ تم ویسی نماز نہیں پڑھ سکتے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے، پھر سو رہتے جتنی دیر نماز پڑھی، پھر نماز پڑھتے جتنی دیر سوئے تھے، پھر سوتے جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی تھی، حتیٰ کہ صبح ہو جاتی، پھر انہوں نے (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت بیان فرمائی، تو ایسی قراءت بیان فرمائی جس کا ہر حرف الگ الگ سمجھ میں آتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1023 (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تمہارا اسے پوچھنا بےسود ہے کیونکہ تم ویسی نماز نہیں پڑھ سکتے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1630
| يصلي ثم ينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح ثم نعتت له قراءته فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا |
جامع الترمذي |
2923
| يصلي ثم ينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح ثم نعتت قراءته فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا |
سنن أبي داود |
1466
| يصلي وينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح ونعتت قراءته فإذا هي تنعت قراءته حرفا حرفا |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1630 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1630
1630۔ اردو حاشیہ: باربار اٹھنا اور نماز پڑھنا کافی مشکل کام ہے جبکہ نماز اور نیند کا عرصہ بھی برابر ہو، اس لیے فرمایا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1630]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2923
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2923]
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2923]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یعلی بن مملک ضعیف ہیں،
مگر شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث ثابت ہے،
دیکھیے آگے حدیث رقم: 2927)
نوٹ:
(سند میں یعلی بن مملک ضعیف ہیں،
مگر شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث ثابت ہے،
دیکھیے آگے حدیث رقم: 2927)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2923]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1630 in Urdu
يعلى بن مملك الحجازي ← أم سلمة زوج النبي