علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : النياحة على الميت
باب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1856
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: وَهِلَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ , فَقَالَ:" إِنَّ صَاحِبَ الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" , ثُمَّ قَرَأَتْ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے“، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: انہیں (ابن عمر کو) غلط فہمی ہوئی ہے (اصل واقعہ یوں ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا: اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ (فاطر: ۱۸)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1856]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی گئی تو فرمانے لگیں: ابن عمر کو غلطی لگ گئی۔ بات یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قبر والے کو (اپنے گناہوں کی وجہ سے) عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ (دیکھیے، حدیث: ۱۸۵۱) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 8 (3978)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (931)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3129)، (تحفة الأشراف: 7324، 16818)، مسند احمد 2/38 و 6/39، 57، 95، 209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1849
| الميت يعذب ببكاء أهله عليه |
سنن النسائى الصغرى |
1851
| يعذب الميت ببكاء أهله عليه |
سنن النسائى الصغرى |
1854
| الميت يعذب في قبره بالنياحة عليه |
سنن النسائى الصغرى |
1856
| صاحب القبر ليعذب وإن أهله يبكون عليه |
صحيح البخاري |
1292
| الميت يعذب في قبره بما نيح عليه |
صحيح البخاري |
1304
| الميت يعذب ببكاء أهله عليه |
صحيح مسلم |
2142
| الميت يعذب ببكاء أهله عليه |
صحيح مسلم |
2143
| الميت يعذب في قبره بما نيح عليه |
صحيح مسلم |
2144
| الميت يعذب في قبره بما نيح عليه |
صحيح مسلم |
2152
| الميت يعذب ببكاء الحي |
صحيح مسلم |
2145
| الميت ليعذب ببكاء الحي |
جامع الترمذي |
1002
| الميت يعذب ببكاء أهله عليه |
سنن ابن ماجه |
1593
| الميت يعذب بما نيح عليه |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1856 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي