🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : النياحة على الميت
باب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1856
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: وَهِلَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ , فَقَالَ:" إِنَّ صَاحِبَ الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" , ثُمَّ قَرَأَتْ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: انہیں (ابن عمر کو) غلط فہمی ہوئی ہے (اصل واقعہ یوں ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا: اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (فاطر: ۱۸)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1856]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی گئی تو فرمانے لگیں: ابن عمر کو غلطی لگ گئی۔ بات یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو (اپنے گناہوں کی وجہ سے) عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (دیکھیے، حدیث: ۱۸۵۱) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 8 (3978)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (931)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3129)، (تحفة الأشراف: 7324، 16818)، مسند احمد 2/38 و 6/39، 57، 95، 209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن آدم الجهني
Newمحمد بن آدم الجهني ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1849
الميت يعذب ببكاء أهله عليه
سنن النسائى الصغرى
1851
يعذب الميت ببكاء أهله عليه
سنن النسائى الصغرى
1854
الميت يعذب في قبره بالنياحة عليه
سنن النسائى الصغرى
1856
صاحب القبر ليعذب وإن أهله يبكون عليه
صحيح البخاري
1292
الميت يعذب في قبره بما نيح عليه
صحيح البخاري
1304
الميت يعذب ببكاء أهله عليه
صحيح مسلم
2142
الميت يعذب ببكاء أهله عليه
صحيح مسلم
2143
الميت يعذب في قبره بما نيح عليه
صحيح مسلم
2144
الميت يعذب في قبره بما نيح عليه
صحيح مسلم
2152
الميت يعذب ببكاء الحي
صحيح مسلم
2145
الميت ليعذب ببكاء الحي
جامع الترمذي
1002
الميت يعذب ببكاء أهله عليه
سنن ابن ماجه
1593
الميت يعذب بما نيح عليه
Sunan an-Nasa'i Hadith 1856 in Urdu