🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : أى الكفن خير
باب: کون سا کفن بہترین ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو (بھی) اسی میں کفنایا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4640)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 46 (2810)، سنن ابن ماجہ/اللباس 5 (3567)، مسند احمد 5/10، 12، 13، 17، 18، 19، 21، ویأتی عند المؤلف برقم: 5324 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥معاوية بن عمرو البصري، أبو المهلب
Newمعاوية بن عمرو البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← معاوية بن عمرو البصري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2810
البسوا البياض فإنها أطهر وأطيب وكفنوا فيها موتاكم
سنن ابن ماجه
3567
البسوا ثياب البياض فإنها أطهر وأطيب
سنن النسائى الصغرى
1897
البسوا من ثيابكم البياض فإنها أطهر وأطيب وكفنوا فيها موتاكم
سنن النسائى الصغرى
5324
البسوا من ثيابكم البياض فإنها أطهر وأطيب وكفنوا فيها موتاكم
سنن النسائى الصغرى
5325
عليكم بالبياض من الثياب فليلبسها أحياؤكم وكفنوا فيها موتاكم فإنها من خير ثيابكم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1897 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1897
1897۔ اردو حاشیہ:
➊ سفید کپڑے میں معمولی سا میل کچیل اور گندگی بھی ظاہر ہوتی ہے، لہٰذا اسے جلدی صاف کیا جاتا ہے اور وہ صاف ستھرا رہتا ہے، رنگ دار کپڑوں میں میل کچیل محسوس نہیں ہوتا، وہ دیر تک دھوئے نہیں جاتے، اس لیے بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ویسے بھی سفید کپڑے کی ایک شان ہوتی ہے۔
➋ مجبوری نہ ہو تو کفن سفید ہی ہونا چاہیے۔
➌ کفن پہنانا واجب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1897]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5324
سفید کپڑا پہننے کے حکم کا بیان۔
سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کفن دیا کرو۔‏‏‏‏ (عمرو بن علی کہتے ہیں کہ) یحییٰ نے کہا: میں نے اس روایت کو نہیں لکھا، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: میمون بن ابی شبیب کی وہ روایت جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہے وہی میرے لیے کافی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5324]
اردو حاشہ:
(1) امر یہاں استحباب کے معنیٰ ہے یعنی سفید کپڑے ہی پہننا ضروری نہیں بلکہ دوسرے مباح رنگوں کے کپڑے بھی جائز ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے رنگوں کے کپڑے بھی استعمال کیے اور صحابہ بھی کرتے تھے، یہی حکم کفن کا ہے۔
(2) پاکیزہ او ر صاف ستھرے کیونکہ سفید رنگ میں داغ دھبہ بہت جلد نظر آجاتا ہے۔ اسے جتنا زیادہ دھویا جائے گا اتنا ہی پاکیزہ اور صاف ستھرا رہے گا جب کہ بعض رنگوں میل کچیل نظر نہیں آتا خواہ عرصہ دراز تک ایسے کپڑے نہ دھوئے جائیں۔ حقیقتاً وہ گندے اور بسا اوقات پلید بھی رہتے ہیں۔
(3) فوت شدگان کیونکہ ان کےلیے سادگی اورصفائی دونوں مناسب ہیں۔ اور سفید کپڑے میں یہ دونوں وصف بدرجہ اتم پاتے جاتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5324]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3567
سفید کپڑوں کا بیان۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3567]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفید رنگ افضل ہے اس لئے اہم مواقع پر سفید کپڑے پہننا بہتر ہے۔

(2)
سفید لباس خوبصورت بھی ہوتا ہے اور با وقار بھی۔
اس میں میل کچیل کا جلدی پتہ چل جاتا ہے اس لیے اس کو جلدی دھو لیا جاتا ہے اور زیادہ توجہ سے دھویا جاتا ہے جس کی بنا پر ہو زیادہ پاک صاف رہتا ہے۔

(3)
کفن کے لئے سفید کپڑا بہتر ہے ویسے دوسرا کپڑا بھی درست ہے خصوصاً دھاری دار کپڑا۔ (سنن أبي داؤد، الجنائز، باب فى الكفن، حديث: 3150)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3567]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2810
سفید کپڑے پہننے کا بیان۔
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2810]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندگی میں سفید لباس بہتر،
پاکیزہ اور عمدہ ہے،
اس لیے کہ سفید کپڑے میں ملبوس شخص کبر وغرور اور نخوت سے خالی ہوتا ہے،
جب کہ دوسرے رنگوں والے لباس میں متکبرین یا عورتوں سے مشابہت کا امکان ہے،
اپنے مُردوں کو بھی انہی سفید کپڑوں میں دفنانا چاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2810]