🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
131. باب : غسل المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل
باب: احتلام ہونے پر عورت کے غسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، قَالَ:" إِذَا أَنْزَلَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ انزال کرے تو غسل کرے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 7 (311) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 107 (601) مطولاً، (تحفة الأشراف: 1181)، مسند احمد 3/121، 199، 282، سنن الدارمی/الطھارة 75 (791) بأطول من ھذا، ویأتی عندالمؤلف برقم: 200 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
195
إذا أنزلت الماء فلتغتسل
صحيح مسلم
711
إذا كان منها ما يكون من الرجل فلتغتسل
صحيح مسلم
709
المرأة ترى ما يرى الرجل في المنام فترى من نفسها ما يرى الرجل من نفسه فقالت عائشة يا أم سليم فضحت النساء تربت يمينك فقال لعائشة بل أنت فتربت يمينك نعم فلتغتسل يا أم سليم إذا رأت ذاك
صحيح مسلم
710
إذا رأت ذلك المرأة فلتغتسل فقالت أم سليم واستحييت من ذلك قالت وهل يكون هذا فقال نبي الله نعم فمن أين يكون الشبه إن ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فمن أيهما علا أو سبق يكون منه الشبه
سنن ابن ماجه
601
المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل فقال رسول الله إذا رأت ذلك فأنزلت فعليها الغسل فقالت أم سلمة يا رسول الله أيكون هذا قال نعم ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فأيهما سبق أو علا أشبهه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 195 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 195
195۔ اردو حاشیہ: خواب مرد اور عورت دونوں کو آ سکتا ہے۔ خواب میں جماع والا عمل بھی نظر آ سکتا ہے مگر غسل تب واجب ہوتا ہے جب منی نکلے، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اگر منی نہ نکلے تو، خواہ خواب میں اس نے مکمل جماع بھی کیا ہو، غسل واجب نہ ہو گا۔ اور اگر خواب کے بغیر بلاشہوت سوتے میں منی نکل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، مرد ہو یا عورت۔ گویا احتلام میں غسل کا سبب منی کا نکلنا ہی ہے، چاہے منی مرد کی نکلے یا عورت کی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 195]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 709
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا (جو اسحاق کی دادی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عورت نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنے بارے میں دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے) تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: اے ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تیرا ہاتھ خاک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:709]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فَضِحْتِ النِّسَاء:
(تو نے ایسی بات کر کے جس کے اظہار میں شرم محسوس کی جاتی ہے)
انہیں رسوا کر دیا ہے،
کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے،
ان کے اندر،
مرد کے پاس جانے کی شدید خواہش ہے۔
(2)
تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ:
عربی محاورہ کی رو سے یہ کلمہ ایسے وقت بولتے ہیں جب کسی کی بات پسند نہ ہو،
یا اس پر ناراض اور ناگواری کا اظہار کرنا مقصود ہو یا اس بات کا انکار اور اس پر زجروتوبیخ کرنی ہو یا حیرت وتعجب کا اظہار مقصود ہو،
لفظی معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں الفاظ کو استعمال فرمایا،
کہ تیری بات قابل انکار ہے،
اس نے تو ایک ایسا دینی مسئلہ پوچھا ہے،
جو پوچھنا ہی چاہیے تھا۔
فوائد ومسائل:
جس طرح احتلام کی صورت میں مرد کے لیے غسل لازم ہے اگر کبھی عورت کو احتلام ہو جائے تو اسے بھی نہانا پڑے گا محض مخصوص جگہ کے دھونے اور وضو کرنے پر کفایت نہیں کر سکے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 709]