صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب وجوب الغسل على المراة بخروج المني منها:
باب: عورت سے منی نکلے پر غسل واجب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 311 ترقیم شاملہ: -- 710
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ: أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنَ الْمَرْأَةِ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ، فَلْتَغْتَسِلْ "، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: وَهَلْ يَكُونُ هَذَا؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ ".
قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انہیں) بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے۔“ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں: کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 710]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بتایا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا، جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ یہ صورت دیکھے تو غسل کرے۔“ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بتایا، میں اس پر شرما گئی، پوچھا کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تو مشابہت کیسے پیدا ہو جاتی ہے، مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، تو جس کا بھی غالب آ جائے یا رحم میں پہلے چلا جائے، بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 710]
ترقیم فوادعبدالباقی: 311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
195
| إذا أنزلت الماء فلتغتسل |
صحيح مسلم |
711
| إذا كان منها ما يكون من الرجل فلتغتسل |
صحيح مسلم |
709
| المرأة ترى ما يرى الرجل في المنام فترى من نفسها ما يرى الرجل من نفسه فقالت عائشة يا أم سليم فضحت النساء تربت يمينك فقال لعائشة بل أنت فتربت يمينك نعم فلتغتسل يا أم سليم إذا رأت ذاك |
صحيح مسلم |
710
| إذا رأت ذلك المرأة فلتغتسل فقالت أم سليم واستحييت من ذلك قالت وهل يكون هذا فقال نبي الله نعم فمن أين يكون الشبه إن ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فمن أيهما علا أو سبق يكون منه الشبه |
سنن ابن ماجه |
601
| المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل فقال رسول الله إذا رأت ذلك فأنزلت فعليها الغسل فقالت أم سلمة يا رسول الله أيكون هذا قال نعم ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فأيهما سبق أو علا أشبهه |
أنس بن مالك الأنصاري ← أم سليم بنت ملحان الأنصارية