🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب : الصلاة على من يحيف في وصيته
باب: وصیت میں ظلم کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1960
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال (مال و اسباب) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو رہنے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1960]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے۔ ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ تھا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ اس پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: میرا ارادہ ہوا کہ میں اس کا جنازہ نہ پڑھوں۔ پھر آپ نے اس کے غلام بلائے، ان کے تین حصے کیے، پھر ان میں قرعہ ڈالا، دو کو آزاد فرمایا اور چار کو غلام رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10812)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأیمان 11 (1668)، سنن ابی داود/العتق 10 (3958)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2345)، مسند احمد 4/426، 431، 438، 440 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥منصور بن زاذان الواسطي، أبو المغيرة
Newمنصور بن زاذان الواسطي ← الحسن البصري
ثقة ثبت
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← منصور بن زاذان الواسطي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1960
أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة
صحيح مسلم
4335
أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة
جامع الترمذي
1364
أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة
سنن أبي داود
3961
أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة
سنن ابن ماجه
2345
أعتق اثنين وأرق أربعة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1960 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1960
1960۔ اردو حاشیہ:
➊ اس قسم کے شخص کا جنازہ تو پڑھا جائے گا مگر اس کی وصیت کو شریعت کے مطابق درست کر دیا جائے گا۔
➋ موت کے قریب کوئی شخص تہائی مال سے زائد میں تصرف کا اختیار نہیں رکھتا، یعنی وہ ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا۔
اس نبوی فیصلے کے برعکس، احناف کا خیال ہے کہ سب غلام آزاد ہوں گے۔ ہر ایک کا تہائی حصہ وصیت کی بنا پر اور باقی دو تہائی حصے کی قیمت ہر غلام یت کے ورثاء کو کما کر ادا کرے گا۔ لیکن یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے میں تصرف ہے اور کسی امتی کو اس کا قطعاً کوئی اختیار نہیں۔
➍ غیر وارث قریبی رشتے دار کے علاوہ بھی کسی کو وصیت کی جا سکتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1960]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2345
قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کر کے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2345]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  غلام آزاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
وفات کے قریب مناسب وصیت کرنا اچھی بات ہے۔

(2)
  وفات کے قریب اپنے پورے مال کو صدقہ کر دینا جائز نہیں زیادہ سے زیادہ کل ترکے کے تیسرے حصے تک صدقہ کیا جا سکتا ہے اس سے بھی کم رکھا جائے تو بہتر ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 2708)

(3)
  صحابی نے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جب کہ انہیں دو غلام آزاد کرنے  کا حق تھا۔
اب ہر غلام یہ حق رکھتا تھا کہ اسے ان دوغلاموں میں شمار کیا جائے جوآزاد کیے جا سکتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے معلوم ہوا کہ جب ایک سے زیادہ دعویدار ایک چیز پر برابر حق رکھتے ہوں تو فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے سے کیا جا سکتا ہے۔

(4)
اسلام میں غلامی جائز ہے بشرطیکہ اس طریقے سے غلام بنایا گیا ہو جوشرعی طور پر جائز ہے ورنہ کسی آزاد شخص کو اغوا کرکے غلام بنا لینا بہت بڑا گناہ ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بڑا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 2442)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2345]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4335
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سند سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، اس کے پاس ان کے سوا کوئی اور مال نہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو منگوایا، اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اس طرح دو آزاد کر دئیے، اور چار کو غلام قرار دیا، اور مرنے والے کے بارے میں شدید الفاظ استعمال کیے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4335]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قَالَ لَهُ قَولاً شَدِيداً:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرنے والے کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے،
جس کی تفصیل سنن نسائی کی رو سے یہ ہے،
میں نے ارادہ کیا،
کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں،
اور سنن ابی داؤد میں ہے،
اگر میں اس کی قبر بنانے سے پہلے معلوم کر لیتا،
تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دیتا،
چونکہ اس نے مرض الموت کے وقت وصیت کی تھی،
اور وصیت صرف تہائی مال کے بارے میں ہو سکتی ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ غلاموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا،
چونکہ یہاں چھ غلاموں میں سے کسی کو بھی آزادی کے لیے وجہ ترجیح حاصل نہیں تھا۔
سب کا حق برابر تھا،
اس لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی صورت نہ تھی،
جس کی روشنی میں ان میں سے دو کو آزاد کیا جا سکتا،
اس لیے جمہور فقہاء ایسے مواقع پر جبکہ سب کا حق برابر،
کسی کو وجہ ترجیح حاصل نہ ہو،
تو قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنے کے قائل ہیں،
ائمہ حجاز امام مالک،
امام شافعی اور احمد کا یہی نظریہ ہے،
اس حدیث کی بناء پر امام اسحاق،
داؤد،
ابن جریر،
حضرت ابان بن عثمان اور عمر بن عبدالعزیز کا نظریہ بھی یہی تھا،
احناف نے اس صحیح حدیث کو رد کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے کیے ہیں،
جن کا جواب خود علامہ سعیدی نے بھی دیا ہے،
کیونکہ قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنا دوسری صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو سفر میں ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ اندازی کرتے تھے،
صف اول میں بیک وقت پہنچنے والوں کو قرعہ اندازی کرنے کی اجازت دی،
علامہ سعیدی نے آخر میں لکھا ہے،
ہماری رائے میں امام ابو حنیفہ تک یہ حدیث نہیں پہنچی ہو گی اور ان کا اپنا موقف یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں صحیح حدیث مل جائے،
تو وہی میرا مذہب ہے،
(معلوم نہیں،
احناف کو اس صریح قول کی موجودگی میں صحیح احادیث کی معنوی تحریف کرتے یا عجیب و غریب تاویل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے)
بہرحال کوئی شخص کچھ بھی کہے،
میں یہی کہوں گا،
کہ صحیح وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے،
اور اس مسئلہ میں قرعہ اندازی کے ذریعہ غلاموں میں سے دو غلاموں کو آزاد کرنا ہی صحیح طریقہ ہے۔
(شرح صحیح مسلم،
ج 4،
ص 617)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4335]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1960 in Urdu